انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 327

۳۲۷ پس باوجود بعض کمزور یا وضعی احادیث کے پائے جانے کے کتب احادیث کے اکثر مصنفّین کے درجہ اتقاء میں فرق نہیں آتا۔ان میں سے بعض اپنے اپنے زمانہ کے لئے رکن اسلام تھے اور اولیاء اللہ میں تھے اور ان کو گالیاں دینے والا خود تقویٰ اور طہارت سے بے بہرہ ہے۔اور اگر فرض بھی کرلیا جائے کہ بعض احادیث انہوں نے صحیح سمجھ کر لکھیں۔لیکن وہ صحیح نہ تھیں۔اور بعض احادیث کے متعلق یہ سمجھ لینا بالکل قرین قیاس ہے بلکہ قیاس کا غالب پہلواسی طرف ہے تو بھی چند ایک غلطیوں سے بشرطیکہ وہ غلطیاں سہو خطاء کی حد میں ہوں اور شرارت کا نتیجہ نہ ہوں ایک شخص کے نہایت مفید کام اور عمر بھر کی قربانی کی تحقیر نہیں کی جاسکتی۔سوم یہ فرق ہے کہ مصنّف ہفوات کی غرض یہ نہیں ہے کہ بعض غلط اور کمزور احادیث کی طرف مسلمانوں کو توجہ دلائیں۔بلکہ ان کی غرض اس پر میں ائمہ اسلام اور اہل بیت میں سے پہلے مخاطبین کی ہتک کرنا ہے اور وہ صحیح احادیث کو جان بوجھ کر اپنے اصل مطلب سے پھرا کر دوسرا رنگ چڑھا کر پیش کرتے ہیں تا اہل سنت والجماعت پر بذعم خود پھبتی اُڑائیں اور ان کی تضحیک کریں اور ان کی غرض کسی غلطی کی اصلاح نہیں ہے بلکہ غلطیاں پیدا کر کے ان کی اُلجھن میں لوگوں کو پھنسانا ہے۔چنانچہ اکثر احادیت سے جو انہوں نے منتخب کی ہیں بالکل صاف اور واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ صرف بُغض اور تعجب کی وجہ سے انہوں نے ان کو اپنے اصل مطلب سے پھیر کر ائمہ حدیث اور ازواج مطہرات اور صحابہ کرام کو گالیاں دینے کا ایک ذریعہ پیدا کیا ہے۔چہارم یہ فرق ہے کہ ان کا خیال ہے کہ صرف کتب اہل سنت میں اس حکم کی غلط روایات داخل ہو گئی ہیں حالانکہ شیعہ کتب بھی اس قسم کی احادیث سے بھری پڑی ہیں کہ اہل سنت کیکتب سے بہت زیادہ کمزور اور وضعی احادیث ان میں موجود پائی جاتی ہیں۔غرض باوجود بعض احادیث کو غلط ماننے کے ہمارے اور مصنف ہفوات کے خیالات ایک نہیں کہ دونوں خیالات میں بعيد المشر قین ہے اور ایک خیال اسلام کو اس کی اصل شکل میں دنیا کے سامنے لاتا ہے تو دوسرا اس کو دشمنان اسلام کی نظروں میں نہایت مکروہ اور بھیانک کر کے دکھاتا ہے بہتان اقدام زناوطلبی مہ جبیں مصنّف ہفوات نے ایک الزام ائمہ حدیث پر یہ لگایا ہے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک حسین عورت کے طلب کرنے کا الزام لگایا ہے اور اس کے بعد ایک اور الزام یہ نقل کیا ہے کہ انہوں نے نعوذ باللہ من ذي رسول کریم صلی الله علیہ وسلم پر اقدام زنا کا بھی الزام لگایا