انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 326

۳۲۶ حق الیقین ہوتی ہیں پھر اعتبار کیارہا؟ مگر یاد رہے کہ اس شبہ کا ازالہ میں پہلے کر آیا ہوں کہ باوجود بعض احادیث کے غلط ہونے کے حد یثوں پر اس حد تک اعتبار کیا جاسکتا ہے جس حد تک وہ اپنی ضرورت کو پورا کر رہی ہیں۔اس سے زیادہ نہ ان پر اعتبار کیا جا سکتا ہے اور ان کی ضرورت ہے۔اسلام کے أصول قرآن کریم اور سنت سے ثابت ہیں اور احادیث صرف سنت کی مؤید اور اس پر ایک تائیدی گواه کے طور پر ہوتی ہیں۔دوسرے امور کے متعلق وہ بحیثیت ایک معتبر تاریخ کے شاہد ہوتی ہیں۔اور جس طرح معتبر سے معتبر تاریخ میں غلطیاں پائی جاتی ہیں لیکن اس کے فائدہ سے انکار نہیں ہو سکتا اسی طرح ان میں بھی غلطیاں پائی جاتی ہیں لیکن اس کے فائدے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔بلکہ حدیث میں یہ خوبی ہے کہ اس کے جمع کرنے میں جو احتیاط برتی گئی ہے اس کے سبب سے یہ یورپ کی تاریخوں کا ذکرہی کیا ہے اسلامی زمانہ کی مدوّن شدہ تاریخوں سے بھی بعض حیثیتوں میں زیادہ معتبر ہے اور اس میں جھوٹ کا معلوم کر لینا آسان ہے۔اگر کہا جائے کہ پھر مصنّف ہفوات میں اور ہم میں اختلاف کیا ہے۔انہوں نے بھی بعض احادیث کو جھوٹا قرار دیا ہے اور ہم نے بھی تعلیم کر لیا ہے کہ بعض احادیث جھوٹی ہو سکتی ہیں بلکہ جھوٹی ہیں۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم میں اور مصنف ہفوات میں بہت سے فرق ہیں۔اول یہ کہ انہوں نے یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ بعض احادیث کے غلط ہونے سے کتب احادیث کاہی اعتبار اٹھ جاتا ہے۔اور یہ بات جیسا کہ میں ثابت کر چکا ہوں بالبداہت باطل ہے۔دوم یہ کہ انہوں نے بعض احادیث پر اعتراض کر کے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ان کتب کے مصنفّین جن میں وہ احادیث پائی جاتی ہیں جھوٹے اور فریبی اور دشمن اسلام تھے اور ان کی کتب کا اعتبار کر کے دوسرے مسلمان بھی ان کے ہم نوا ہیں۔لیکن جیسا کہ میں ثابت کر چکا ہوں یہ بات غلط ہے بہت سی حدیثیں جن کو ہم غلط سمجھتے ہیں ان کو غلط سمجھتے ہوۓ ہی محدثین نے اپنی کتب میں درج کیا ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ان کی کتب میں اضداد مطالب کی احادیث ایک ہی جگہ جمع نظر آتی ہیں۔انہوں نے تحقیق کا ایک معیار مقرر کیا ہے اور اس معیار کے مطابق جو حدیث ان کو ملی ہے خواہ بعض دوسرے طریقوں سے اس کی کمزوری ہی ثابت ہوتی ہو انہوں نے اس کو اپنی کتاب میں لکھ دیا ہے اور یہ ہرگز نہیں کہا جاسکتا باستثناء ایک دو کتب احادیث کے کہ ہر ایک حدیث جو کسی حدیث کی کتاب میں پائی جاتی ہے اس کا مؤلف اسے ضرور صحیح ہی تسلیم کرتا تھا۔نہ صرف یہ خیال کرتا تھا کہ میرے مقرر کرده معیار کے چونکہ یہ حدیث مطابق آتی ہے مجھ پر دیانتداری سے اس کا لکھ دینا فرض ہے اور بس۔