انوارالعلوم (جلد 9) — Page 325
۳۲۵ کہ آپ نے خود ان کے گھر میں جا کر ان کو ایک چادر میں جمع کر کے ان پر یہ آیت پڑھی۔پھر کسی روایت میں ہے کہ ام سلمہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ مجھے اس چادر میں داخل کردا اور آپ نے داخل نہ کیا۔اور کسی میں ہے کہ عمیر بن حوشب کہتے ہیں کہ عائشہ نے کہا تھا کہ مجھے داخل کرو اور آپ نے داخل نہ کیا۔اس اختلاف سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل بیت کی محبت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں نے وقتی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے یہ روایات بنائی ہیں اس لئے دروغ گو را حافظہ نہ باشد کے اصل کے مطابق وہ اپنے بیان میں کوئی مابہ الاشتراک پیدا نہیں کر سکے۔کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ ایک روایت میں تو یہ بیان ہوتا ہے کہ ام سلمہ ؓنے کہا کہ میں نے خود چادر تطہیر میں داخل ہونا چاہا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔مگر عمیر بن حوشب کی روایت کے مطابق حضرت عائشہ نے داخل ہونا چاہا مگر اجازت نہ ملی۔کیا یہ اس امر کا ثبوت نہیں کہ ایک وضاع نے اگر حضرت ام سلمہ کی ہتک کرنی چاہی ہے۔تو دوسرے نے حضرت عائشہ کی۔ٍعلاوہ ازیں حضرت عائشہ کی جو حدیث مصنف ہفوات نے درج کی ہے اس سے حضرت عائشہ کی ہر گز ہتک ثابت نہیں ہوتی بلکہ آپ کی رفعت ثابت ہوتی ہے۔ہاں مصنف ہفوات نے اپنے ترجمہ میں ہتک کا مضمون پیدا کرنے کی کوشش بے شک کی ہے وہ لکھتے ہیں کہ جب حضرت عائشہ نے چادر تطہیر میں داخل ہونا چاہا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غصہ کے لہجہ میں فرمایا چل دور ہو تو اپنے درجہ پر ٹھیک ہے۔یہ ترجمہ خواہ ان کا ہے یا قول مستحسن والے کا جس کے حوالہ سے انہوں نے یہ روایت نقل کی ہے بالکل غلط ہے۔انہوں نے خودہی الفاظ حدیث درج کئے ہیں جو ہے ہیں۔قال تنحی فانک خیر ان الفاظ میں غصے سے کہا کے الفاظ ہرگز موجود نہیں ہیں۔اور نہ ’’چل دور ہو ‘‘، کے ہیں اور نہ یہ کہ تواپنی جگہ ٹھیک ہے۔یہ تینوں باتیں اپنے پاس سے بنا کر داخل کر دی گئی ہیں۔الفاظ حدیث کا ترجمہ یہ ہے کہ ایک طرف ہو جاوؤ تم بہت ہی اچھی ہو جس کے اگر کوئی معنے نکل سکتے ہیں تو صرف یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ تم میں تو پہلے سے ہی خیر موجود ہے۔ہمیں اور تقریر میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔مگر حق یہ ہے کہ خواہ الفاظ کچھ ہوں۔یہ احادیث بعض نام نہاد محبان اہل بیت کے حقیقی اہل بیت کو بدنام کرنے کے لئے وضع کی ہیں۔اس جگہ کی کو شائد یہ شبہ گزرے کہ اس بیان سے تو معلوم ہوا کہ بعض احادیث جھوٹی بھی