انوارالعلوم (جلد 9) — Page 316
۳۱۶ حق الیقین میں فرق رکھتے ہوں پیدا ہو جانی بالکل معمولی ہے۔دوسری ایجاد مصنف صاحب ہفوات کے دماغ کی یہ ہے کہ حدیث میں تو یہ لفظ ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دن ناراض رہتے اور وہ اپنے اعتراض میں لکھتے ہیں کہ کئی کئی دن تک آپ غم و غصہ میں مبتلا رہتے۔تیسری ایجاد مصنف ہفوات کی یہ ہےکہ حدیث میں تو لفظ غضب کا استعمال ہوا ہے جو اچھے اور برے دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے حتّٰی کہ اللہ تعالیٰ کی نسبت بھی استعمال ہوا ہے جو اچھے اور برے دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے حتّٰی کہ اللہ تعالیٰ کی نسبت بھی استعمال ہو جاتا ہے جیسا کہ آتا ہے مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَيْهِ اور انہوں نے اس لفظ کو بدل کر غم و غصہ کا لفظ استعمال کر دیا ہے تا کہ اعتراض مضبوط ہو جائے۔کیونکہ غصہ کا لفظ عربی زبان میں بُرے معنوں میں استعمال ہوتا ہےا ور اس لفظ کا مفہوم یہ ہے کہ جس شخص کے اندر یہ مادہ جوش میں آوے خود اس کو تکلیف ہو اور اس کا گلا گُھٹ جائے۔اور یہ حالت صرف ان لوگوں کی ہوتی ہے جو جوش سے اندھے ہو جائیں اور ماسِوا کو بھول جائیں۔قرآن کریم میں یہ لفظ انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔دوزخیوں کے کھانے کی نسبت آتا ہے وَ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ۔وہ کھانا ان کو ملے گا جو ان کے گلے کو پکڑ لے گا او ر نہ باہر نکل سکے گا نہ اندر جا سکےگا۔لغت میں بھی یہی معنے کئے ہیں کہ غصہ اس حزن کو کہتے ہیں جو انسان کے گلے کو پکڑے یعنی اس کی حالت موت کی سی کردے جیسے کسی کا گلا بند ہو جائے۔پس یہ لفظ اللہ تعالیٰ اور اس کے نیک بندوں کی نسبت استعمال نہیں ہو سکتا۔کیونکہ اس کا مفہوم ان کے اندر نہیں پایا جاتا اور حدیث میں یہ لفظ رسول کریمؐ کی نسبت استعمال نہیں ہوا بلکہ غضب کا ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ کی نسبت بھی استعمال ہو جاتاہے۔مصنّف ہفوات کے دماغ کی چوتھی اختراع یہ ہے کہ وہ اس حدیث سے یہ مطلب نکالتے ہیں کہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت لکھا ہے۔آپ اپنی بیویوں کی بات پر اظہار غضب کرتے تھے اس سے معلوم ہوا کہ آپ کارِ رسالت سے معطلّ ہو جاتے تھے۔حالانکہ غضب کرنے اور کارِ رسالت سے معطلّ ہونے کا کوئی بھی علاقہ نہیں ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح مصنّف ہفوات نے محبت کا غلط مفہوم سمجھ کر پہلی حدیث پر اعتراض شروع کر دیا تھا اسی طرح غضب کا غلط مفہوم سمجھ کر دوسری حدیث پر اعتراض شروع کر دیا۔اگر وہ قرآن کریم پر نظر ڈالتے تو ان کو اس قسم کے اعتراضات کر کے خود سُبکی نہ اٹھانی پڑتی اور دشمنانِ اسلام کو خوشی کا موقع نہ ملتا۔