انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 266

انوار العلوم جلد9 ۲۶۶ کر بیٹھ جاتے کوئی نیا احمدی جسے حقہ کی عادت ہوتی وہاں چلا جاتا تو خوب گالیاں دیتے۔چنانچہ ایک احمدی ان کی مجلس میں گیا انہوں نے حقہ آگے رکھ دیا اور حضرت صاحب کو گالیاں دینے لگ گئے۔اس سے اس احمدی کو سخت رنج ہوا کہ میں ان کی مجلس میں کیوں آیا۔انہوں نے جب دیکھا کہ یہ کچھ بولتا نہیں تو پوچھامیاں تم کچھ بولے نہیں۔احمدی نے کہا۔بولوں کیا۔میں اپنے آپ کو ملامت کر رہا ہوں کہ حقہ کی عادت نہ ہوتی تو یہ باتیں نہ سننی پڑتیں۔آخر اس نے عہد کیا میں آئندہ کبھی حقہ نہ پیوں گا۔تو عادت اِنسان کو گناہ کے لئے مجبور کر دیتی ہے۔پھر سعیر وہ آگ ہوتی ہے جو ان کے اندر لگی ہوتی ہے اور انہیں تسلی نہیں ہونے دیتی۔دیکھو ایک بت پرست کے سامنے جب ایک مومن اپنے خدا کی وحدانیت بیان کرتا ہے۔تو وہ کس قدر جلتا ہے اور ایک عیسائی کے سامنے جب ایک یہودی کہتا ہے کہ تمہارا خداوہی ہے۔جس کو ہم نے کانٹوں کا تاج پہنایا اور یہ یہ تکلیفیں دیں تو اس کے سینہ میں کس قدر جلن پیدا ہوتی ہے۔تو کافروں کے دلوں میں ایک آگ ہوتی ہے جو ان کو جلاتی ہے۔ایک دفعہ ایک یہودی حضرت عمرؓ سے کہنے لگا۔مجھ کو تمہارے مذہب پر رشک آتا ہے اور میرا سینہ جلتاہے کہ کوئی بات نہیں جو اس شریعت سے چھوڑی ہو کاش کہ یہ سب باتیں ہمارے مذہب میں ہوتیں۔تو یہ ایک آگ ہے جو ان کو جلاتی ہے۔اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ مومن کا حال اس آیت میں بیان فرماتا ہے۔ان الأبرار يشربون من كأس كان مزاجها کافورایعنی کافروں کے مقابلہ میں خداوند کریم مومن کو کافوری پیالہ پلاتا ہے۔کافور کی خاصیت ٹھنڈی ہے۔پس جہاں کافر کا سینہ جلتاہے اس کے مقابلے میں مومن کا مزاج کافور ہو جاتا ہے۔یعنی جہاں کافر جلتا ہے۔مومن خوش ہوتا ہے کہ میرے مذہب جیسا کوئی مذہب نہیں۔توحید کی تعلیم اور کلام الہٰی اس کے سامنے ہوتا ہے۔ایک مسلمان جس وقت قرآن پڑھتا ہے کہ وہ لوگ جو خدا پر ایمان لاتے ہیں ان پر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے، ان کو الہام ہوتا ہے، تو اس کادل اس بات پر کس قدر خوش ہوتا ہے کہ میں خدا سے کس قدر قریب ہوں۔اسلام پر چلنے سے ہی خدا سے تعلق ہوتا ہے۔اس کے مقابلہ میں وید ماننے والا جب وید پڑھتا ہے تو کس قدر کڑھتا ہے کہ خداجو وید کے رشیوں سے کلام کرتا تھا اب مجھ سے نہیں کرتا میں کیا اس کا سوتیلا بیٹا ہوں۔تو مومن خوش ہوتا ہے اور کافر جلتاہے۔مگروہ کا فوری پیالہ جو مومن کو دیا جاتا ہے مشکل سے ملتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔عینا يشرب بها عباد الله يفجرونها تفجيرا۔جب رسول کریم ﷺکے زمانہ میں لوگ ایمان