انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 265

انوار العلوم جلد۹ ۲۶۵ تھا کہ جو کوئی ان کے وعظ میں جائے یا ان سے ملے وہ کافر ہو گا اور اس کی بیوی کو طلاق ہو جائے گی کیونکہ یہ مسئلہ ہے کہ جب مرد کافر ہو جائے تو اس کی بیوی کو طلاق ہو جاتی ہے۔ایک دفعہ ایک احمدی ان کے وعظ میں گیا اور ان سے کہا آپ نے میری شکل دیکھ لی ہے۔میں احمدی ہوں۔اس لئے آپ اب کافر ہو گئے اور آپ کی بیوی کو طلاق ہو گئی۔اس پر سب لوگ اس کو مارنے لگ گئے۔خیرانہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں جائیں گے؟ میں نے کہا۔بٹالہ۔انہوں نے کہاکیا خاص بٹالہ۔یا کسی اور جگہ میں نے کہا۔بٹالہ کے پاس ایک گاؤں ہے وہاں۔انہوں نے کہا۔اس گاؤں کا کیا نام ہے۔میں نے کہا قادیان۔کہنے لگے۔ہاں کیوں جاتے۔میں نے کہا میرا وہاں گھر ہے۔کہنے لگے کیا تم میرزا صاحب کے رشتہ دار ہو۔میں نے کہ میں ان کا بیٹا ہوں۔ان دنوں ان کا کسی احمدی کے ساتھ جھگڑا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ میں اس احمدی سے کہوں کہ مقدمہ چھوڑ دے۔مگر انہوں نے پہلے غرض نہ بتائی اور کچھ خشک میوہ منگوا کر کہا۔کھاؤ۔میں نے کہا مجھ کو نزلہ کی شکایت ہے۔کہنے لگے۔جو کچھ تقدیر الہٰی میں ہوتا ہے۔وہی ہوتا ہے۔میں نے کہا۔اگر یہی ہے۔تو آپ سے بڑی غلطی ہوئی۔ناحق سفر کی تکلیف برداشت کی اگر تقدیر میں ہوتا۔تو آپ خود بخود جہاں جانا تھا پہنچ جاتے اس پر خاموش ہو گئے۔تو شدی کے متعلق بالکل غلط خیال سمجھا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ہم کسی کو مومن یا کافر نہیں بناتے۔بلکہ وہ خودہی شکر گزار بنده یا کافر بنتا ہے۔اور ہم نے جب اس کو مقدرت دے دی تو حساب بھی لینا ہے۔دیکھو جس نوکر کو مالک اِختیار دیتاہے کہ فلاں کام اپنی مرضی کے مطابق کر، اس سے محاسبہ بھی کرتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انا اعتدنا للکفرین سلسلا وأغللا و سعيرا۔جو لوگ انکار کرتے ہیں۔ان کے لئے زنجیریں اور طوق ہے اور الگ رکھی ہے۔وہ زنجیر کیا ہے۔یہ رسوم ہیں جن کا تعلق قوم کے ساتھ ہوتا ہے۔مثلا ًپیٹے کا بیاہ کرنا ہے۔تو خواہ پاس کچھ نہ ہو قرض لے کے رسوم پوری کرنی ہوتی ہیں۔یہ زنجیر ہوتی ہے جو کافر کو جکڑے رہتی اور وہ اس سے علیحدہ نہیں ہونے پاتا۔اس کے مقابلہ میں مومن ہے اس کے نکاح پر کچھ خرچ نہیں ہوتا۔اگر توفیق ہے تو چھوہارے بانٹ دو۔اگر نہیں تو اس کے لئے بھی جبر نہیں۔پھر اغلال وہ عادتیں ہیں جن کا اپنی ذات سے تعلق ہے۔اسلام عادتوں سے بھی روکتا ہے۔شراب، حقہ ، چائے کسی چیز کی بھی عادت نہ ہونی چاہے۔إنسان عادت کی وجہ سے بھی گناہ کرتا ہے۔حضرت صاحب کے زمانہ میں حضرت صاحب کے مخالف رشتہ داروں میں سے بعض لوگ حقہ لے