انوارالعلوم (جلد 9) — Page 226
۲۲۶ (۶) تعلیم اولاد کی طرف توجہ نہ کرنا۔جو لوگ اِن باتوں کی طرف توجہ نہیں کرتے وہ قوم کو تباہ کرتے ہیں۔کیونکہ اولاد نے ہی آگے قوم بننا ہوتا ہے۔(۷) غلاظت- یہ پہلے بھی بیان کی گئی ہے۔وہاں اسلئے بیان کی گئی تھی کہ اس سے لوگوںکو بُو آتی ہے اور تکلیف ہوتی ہے۔لیکن یہاں اس لئے اسے بیان کیا گیا ہے کہ اس سے بیماریاں بھی پیدا ہوتی ہیں۔جن سے قوم تباہ ہوتی ہے۔(۸) ذمہ داری کے احساس کا فقدان- فقدان کے معنی ہیں کسی چیز کا نہ پایا جانا۔یعنی انسان یہ محسوس نہ کرے کہ میرے اُوپر جو کام تھا اس کا کرنا میرا فرض تھا۔(۹) کام یا ذمہ داری کو پورا نہ کرنے اور نقصان ہو جانے کی صورت میں برداشت نہ کرنا۔خواہ غلطی سے کام نہ کیا ہو یا جان بوجھ کر۔(۱۰) بغاوت۔ایک دوست نے ایک سوال کیا ہے۔چونکہ مَیں خود بھی اس کے متعلق بیان کرنا چاہتا تھا اس لئے اسی موقعہ پر جواب دیتا ہوں۔وہ دوست کہتے ہیں۔ہماری جماعت کو مخالفین کے مقابلہ میں درشت کلامی اور بد زبانی سے کام نہیں لینا چاہئے۔انہوں نے ہماری جماعت کے لیکچراروں اور واعظوں کو توجہ دلائی ہے کہ وہ سخت الفاظ استعمال نہ کیا کریں۔مَیں بھی اس کے متعلق تاکید کرتا ہوں۔وہ میری تحریروں میں کبھی ایسے الفاظ نہیں دیکھینگے کیا مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف بد زبانی اور گالیاں سُنکر رنج نہیں ہوتا؟ ہوتا ہے۔لیکن مَیں نے کبھی درشت کلامی کے جواب میںدرشت کلامی سے کام نہیں لیا۔بعض لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعض تحریروں کا حوالہ دیتے ہیں۔انہیں یاد رکھنا چاہئے۔حضرت صاحب بحیثیت مجسٹریٹ تھے اور اُن کا فرض تھا کہ لوگوں کو اُن کی اصل حقیقت بتاتے۔مگر ہماری یہ پوزیشن نہیں ہے اور درشت کلامی اور گالیاں دینا نفس کی کمزوری کی علامت ہے۔آجکل ممکن ہے کسی کا اس سے دل خوش ہو جائے مگر آئندہ جو اولاد ہوگی وہ جب ان تحریروں کو پڑھے گی تو کہے گی۔کاش! ہمارے باپ دادا ایسا نہ کرتے۔کیونکہ وہ ٹھنڈے دل سے ان تحریروں کو پڑھیںگے۔انکو طیش نہ ہوگا۔ان کے سامنے مخالفین کی تحریریں نہ ہونگی۔اسوقت وہ ان کتابوں اور اخباروں کو چھپاتے پھرینگے جن میں سخت اور درشت الفاظ ہونگے۔(۱۱) مہمانداری کے جذبہ کا نہ ہونا۔یہ بھی قومی بدی ہے۔