انوارالعلوم (جلد 9) — Page 224
۲۲۴ کے طور پر چوری کرتے ہیں۔چنانچہ بعض گائوں میں دستور ہے کہ ایک دوسرے کا مال چُرا لیتے ہیں۔یہ بھی بُرائی ہے۔(۲۷) مارپیٹ (۲۸) فخر بے جا (۲۹) بہتان لگانا (۳۰) غیبت کرنا (۳۱) عیب چینی کرنا۔عیب چینی اور غیبت میں فرق ہے اور وہ یہ کہ غیبت کے معنی ہیں کسی کی بدی لوگوں میں بیان کرنا تاکہ وہ ذلیل ہو اور چغل خوری یہ ہے کہ اگر کسی شخص کے متعلق کوئی شخص کوئی بُری بات بیان کرے تو اُسے جاکر بتانا اور ان کی آپس میں لڑائی کرانا۔(۳۲) عیب لگانا۔(۳۳) تحقیر کرنا۔لوگوں میں ذلیل قرار دینا (۳۴) نام دھرنا جیسا کہ ہمارے ملک میں لوگوں کے مختلف قسم کے نام رکھ دئے جاتے ہیں۔(۳۵) استہزاء کرنا۔یعنی حقیر اور ذلیل کرنے کے لئے ہنسی تمسخر کرنا۔(۳۶) منہ چڑانا۔بچوں اور عورتوں میں یہ بہت عادت ہوتی ہے۔(۳۷) منصوبہ بازی کرنا۔یعنی یہ سوچنا کہ فلاں کو کس طرح نقصان پہنچایا جائے۔(۳۸) تعذیب- یعنی بجائے سزا کے دُکھ دینا۔(۳۹) غصہ ہونا- وہ غصہ جس کا اظہار کیا جائے۔(۴۰) انتقام میں شدّت- یعنی جتنا انتقام لینا چاہئے اس سے زیادہ لینا۔(۴۱) رشوت لینا۔(۴۲) رشوت دینا۔(۴۳) سود لینا۔(۴۴) سود دینا۔یہ موٹی موٹی بدیاں ہیں جو دوسرے انسانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔اَب میں وہ بدیاں بیان کرتا ہوں جو انسانوں کے علاوہ دوسری مخلوق سے تعلق رکھتی ہیں: (۱) بد بودار چیزیں استعمال کرنا- رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ہے بدبودار چیزیں کھانے سے ملائکہ کو تکلیف ہوتی ہے اور وہ ایسے انسان کے پاس نہیں آتے۔(۲) بلاوجہ گھر میں کتا رکھنا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ آلہٖ وسلم نے فرمایا ہے۔جس گھر میں کتّا ہو۔وہاں فرشتے نہیں جاتے۔اَب مَیں وہ بدیاں بیان کرتا ہوں جو دوسرے جانوروں سے تعلق رکھتی ہیں: (۱) جانوروں کو بلا وجہ مارنا۔(۲) جانوروں سے زیادہ کام لینا۔اس بُرائی میں عام طور پر زمیندار مبتلا ہوتے ہیں۔وہ جانور سے کام لیتے رہتے ہیں اور جب وہ کام دینے کے ناقابل ہو جاتا ہے اور مرنے لگتا ہے تو مذبح والوں