انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 189

۱۸۹ اصل بات یہ ہے کہ دیگر مذاہب والے سمجھتے ہیں شریعت تحکم ہے۔اس کے احکام کی کوئی وجہ نہیں ہے۔اسلئے ذرا کوئی حکم توڑا اور انسان پکڑا گیا۔گویا شریعت تعزیرات کے طور پر ہے۔مگر اسلام کہتا ہے اخلاق اور شریعت کے احکام اپنی ذات میں مقصود نہیں بلکہ یہ تو ورزشیں ہیں جو انسان میں دلی پاکیزگی پیدا کرنے کے لئے ہیں۔ان کے ذریعہ مشق کرائی جاتی ہے تاکہ پاکیزگی پیدا ہو۔اسلئے اگر کسی مشق میں کوئی غلطی ہو جائے تو یہ نہیں کہ ضرور اسکی سزا دی جائے تا وقتیکہ اس غلطی سے مشق کی اصل غرض کو نقصان نہ پہنچتا ہو اور اصل مقصد فوت نہ ہو جاتا ہو۔جیسے مثلاً سکول میں اگر کوئی لڑکا دس سوالوں میں سے ایک درست نہ نکالے تو اسے سزا نہیں دی جائیگی۔اسی طرح ڈاکٹر غلطیاں بھی کرتے ہیں۔لیکن انکے علاج سے لوگوں کو صحت ہوتو وہ ڈاکٹر سمجھے جاتے ہیں۔پس اگر کسی میں بعض نقص رہ بھی جائیں تو بھی وہ با اخلاق سمجھا جا سکتا ہے۔لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ کوئی کہے اچھا میں اور کوئی برائی نہیں کرونگا صرف چوری کر لیا کرونگا۔اس ایک نقص کا تو کوئی حرج نہیں۔یہ بغاوت ہے اور بغاوت معاف نہیں ہوا کرتی۔معاف غلطی ہوتی ہے۔مثلاً ایک طالب علم کہے کہ میں ایک سوال کا جواب نہیں دوںگا تو اسے سکول سے نکالا جائیگا کیونکہ اس نے ممتحن کی ہتک کی۔لیکن اگر وہ ایک آدھ سوال حل نہ کر سکے تو اس وجہ سے اسے کوئی سزا نہ دی جائیگی۔کیا اخلاق کی اصلاح ممکن ہے اَب یہ سوال ہے کہ کیا اخلاق کی اصلاح بھی ممکن ہے۔گوعام طور پر لوگ کہتے ہیں کہ ممکن ہے۔مگر اپنے معاملہ میں آکر کہدیا کرتے ہیں کہ کچھ نہیں بنتا۔اسی مجمع میں جس سے پوچھو کہ اخلاق درست ہو سکتے ہیں تو کہیگا۔ہاں ضروری ہو سکتے ہیں۔اور اگر کہو تم نے اپنے اخلاق کی اصلاح کر لی ہے تو کہیگا۔مَیں نے بہت زور لگایا ہے مگر کچھ نہیں بنتا۔عام طور پر تو یہ ہوتا ہے کہ لوگ دوسروں کے لئے بُری رائے ظاہر کرتے ہیں۔اور اپنے لئے اچھی۔مگر اس معاملہ میں اُلٹ ہوتا ہے۔کیونکہ وہ دوسرے لوگوں کے لئے اچھی رائے ظاہر کرتے ہیں اور اپنے لئے بُری۔مگر قرآن کریم کہتا ہے اخلاق کی اصلاح ہو سکتی ہے۔فرماتا ہے فذکّر اِن نفعت الذِکریٰ (۸۷-۱۰) اِن کے معنی قد کے ہیں۔کہ اے محمدؐ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) تو لوگوں کو نصیحت کر کہ نصیحت ہمیشہ ہی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔پس قرآن کریم کی اس آیت کے ماتحت اخلاق کی اصلاح ہر حالت میں ہو سکتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس بارے میں جو ارشاد جماعت کو کیا ہے وہ اپنی