انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 144

۱۴۴ دوسرے سلسلے کی آمد میں آج تک ایک خطرناک نقص رہا ہے اور میں اس کا مخالف رہا ہوں اور اب بھی ہوں۔اور میری یہ رائے بھی نہیں بدل سکتی کہ وصیت کے معاملے کو غلط طور پر سمجھا گیا ہے۔جن لوگوں کی جائیدادیں نہیں تھیںوہ وصیتیں کرتے چلے گئے ہیں حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوةوالسلام نے وصیت کو مالی قربانی قرار دیا ہے مگر ۶۰ فیصدی وصیتیں ایسی تھی کہ عام لوگ شب برات اور محرم میں جتنا خرچ کرتے ہیں اس سے بھی کم انہوں نے وصیت میں دیا ہو گا۔میں اس کی ہمیشہ مخالفت کرتا رہا ہوں اور میں سمجھ نہیں سکتا میری یہ رائے کبھی بدل سکتی ہے کہ ایسے لوگوں کو ایک جگہ جمع کرنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مدنظر نہ تھا۔میرے نزدیک ہر وہ جائداد جس سے کسی کا گذارہ نہیں چلتا اس کی اگر وصیت کرتا ہے تو وہ وصیت نہیں ہے اس لئے میں نے کارکنوں کو توجہ دلائی ہے کہ اس حکم کی وصیتیں فضول ہیں ان حالات میں چونکہ صاحب جائداد لوگوں نے وصیتیں کرنی چھوڑ دی ہیں اس لئے آمدمیں کمی گئی ہے۔دوسرے یہ کہ وصايا موت کے وقت نہ کرنی چاہئیں۔اس وقت تو ہر شخص کر دے گا۔وصیت شوق سے اس وقت کرنی ہے جبکہ سامنے موت کا خوف نہ ہو۔تیرے وصایا کرنے کی تحریک کرنی چاہئے۔ایک دفعہ میں نے دیکھا تھا کہ ایک آدمی کو دو تین آدمی یہ کہہ کروصیت کرنے کے لئے مجبور کر رہے تھے کہ اگر نہ کرو گے تو منافق ہوگے۔اس پر میں نے منع کیا تھاکہ اس طرح مجبور نہیں کرنا چاہے نہ یہ کہ تحریک ہی نہیں کرنی چاہئے۔ہماری جماعت میں ایسے لوگ موجود ہیں کہ اگر ان سے وصیتیں کرائی جائیں تو انہیں سے کم از کم ایک کروڑ روپیہ وصول ہو سکتا ہے۔میں نے جماعت کے مال کا اندازہ لگایا تو دیکھا کہ پنجاب کے تین ضلعوں منٹگمری، لائل پور اور سرگودھا کے احمدی اگر اپنی جائیداد کے دسویں حصہ کی وصیت کریں تو دس لاکھ اور اگر زیادہ وصیت کریں تو ۳۳ لاکھ تک رقم مل سکتی ہے۔اور سارے ہندوستان میں جماعت کی جائداد کا اندازہ لگایا جائے تو کم از کم دس کروڑ کی ہوگی۔جس میں سے ایک کروڑ مل سکتا ہے۔جن لوگوں کی جائدادیں نہیں ان کی ماہوار آمدنی وصیت میں رکھی گئی ہے۔اور خواہ کوئی کتنی قلیل تنخوا کا ملازم ہو اگر وہ اس تنخواہ کا دسواں حصہ دیتا ہے تو واقعی قربانی کرتا ہے اس طرح تین لاکھ کے قریب آمد ہو سکتی ہے۔پھر ان لوگوں کو چھوڑ کر جن کی کوئی آمد نہیں یا جائداد نہیں وہ تبلیغ میں کوشش کریں تو کی خدمت ان کی طرف سے وصیت میں سمجھی جاسکتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے لکھا ہے کثرت سے مال آئیں گے۔مگر ہم دیکھتے ہیں