انوارالعلوم (جلد 9) — Page 137
۱۳۷ مقابلہ میں ہم نے چاہا کہ یہاں کی تجارت ہمارے ہاتھ آجاۓ مگر کیا کامیابی ہوئی؟ یہ امور جو مقامی ہیں اور مقام بھی چھوٹا سا گاؤں ہے۔اس چھوٹے سے گاؤں میں جہاں ہماری موت اور زندگی کا سوال ہے ہم مقابلہ میں کامیاب نہ ہوئے۔تو خیال کرو کہ اگر ہمارا انتظام ایسا ہی ناقص ہے تو ہمارے لئے کتنے خوف کا مقام ہے۔جبکہ ہم ساری دنیا کے مقابلہ کے لئے کھڑے ہیں۔اور اسی دنیا کے مقابلہ کے لئے کھڑے ہیں جس کے ادنی ٰ ادنی ٰ آدمی اگر ہمارے اعلیٰ آدمیوں کی جگہ مقرر کر دیئے جائیں تو دنیوی تجربہ اور ظاہری علوم کے لحاظ سے اعلی ٰنظارت پر کام کر سکیں گے اور ہمارے اعلیٰ اظروں سے بھی اعلی ٰرہیں گے کیونکہ وہ لوگ سینکڑوں سالوں سے تجربہ کرتے چلے آرہے ہیں اور کام کرنے کے طریق میں جو جو نقائص انہیں معلوم ہوئے، انہیں دُور کرتے رہے ہیں۔انہوں نے ایک ایک بات پر علمی طور پر غور کیا اور اس کے متعلق سالہا سال کی کوششوں سے تدبیریں نکالی ہیں۔مثلا ًشراب تر ک کرانے کا کام ہے۔یورپ دو صدیوں سے اس کے متعلق غور کرتا چلا آرہا ہے کہ کس طرح کم کی جاسکتی ہے۔یہاں کا ایک طالب علم بھی کہہ دے گا کہ اس میں کونسی مشکل بات ہے۔گورنمنٹ شراب بند کرنے کا حکم دے دے تو بند ہو جائے گی۔لیکن یورپ کو اس کے بند کرانے میں دو صدیاں گزارنی پڑیں۔شروع شروع میں یورپ والوں نے بھی یہی سمجھا تھا کہ بندش کا حکم دینے سے بند ہو جائے گی مگرایسانہ ہوا۔اور کئی قانون بدلے گئے۔پہلے ملک میں شراب بننی بند کردی گئی۔اس پر باہر سے آ کر بِکنے لگی اور ملک کی دولت باہر جانے لگی۔پھر اس پر ٹیکس بہت زیادہ کر دیا گیا تو گھروں میں بنانے لگ گئے۔اور جو بنائے تھے وہ بھی پینے لگ گئے۔غرض کئی طریق نکالے گئے مگر کسی میں کامیابی نہ ہوئی۔آخر یہ قرار دیا گیا کہ جتناممکن ہو شراب کو سستا کر دیا جائے اور ناجائز کشید کو بند کر دیا جائے۔جب شراب سستی ہو گئی تو نتیجہ یہ ہوا کہ گھروں میں بننی بند ہو گئی اور دکانوں پر لائسنس لگا دیئے۔جن سے معلوم ہونے لگا کہ ملک کا کس قدر حصہ شراب پیتا ہے۔پھر آہستہ آہستہ کم کرنے لگے۔اب یورپ میں شراب کا متوالا کوئی شاذ ہی نظر آتا ہے۔ورنہ پہلے کئی کئی سَو روزانہ جیل خانوں میں بھیجے جاتے تھے۔تو دو سو سال کے عرصہ میں اس حد تک شراب کے کم کرنے میں انہیں کامیابی ہوئی ہے۔اس قسم کے تجربوں کی وجہ سے ان ممالک کے سب لوگ ان باتوں کو جانتے ہیں۔اور وہ لوگ ذاتی، قومی اور وراثتی تجربہ کے لحاظ سے ہمارے آدمیوں سے زیادہ ہوشیار ہیں۔اور ہمیں ان کا مقابلہ کرنا ہے جن کے سامنے ہماری حالت بچہ کی سی ہے اس لئے جب تک ہم غیر معمولی قربانیاں نہ کریں کامیاب نہیں ہو سکتے۔مگر ہماری جماعت کے لوگ چھوٹی چھوٹی قربانیوں پر ہی گھبرا جاتے ہیں۔اس وقت میں پہلے