انوارالعلوم (جلد 9) — Page 127
۱۲۷ بسم الله الرحمن الرحيم نححمد ہ ونصلی على رسوله الكريم جماعت احمدیہ کا جدید نظام عمل (فرموده مورخہ 19۔اکتوبر۱۹۲۵ء) آج آپ لوگوں کو کسی عام جلسہ یا کسی مذہبی مسئلہ کے متعلق کوئی بات سنانے کے لئے جمع نہیں کیا گیا بلکہ ایک ایسی ذمہ داری کی طرف توجہ دلانے کے لئے جمع کیا گیا ہے جس کو اٹھانے اور پورا کرنے میں آپ سب لوگ شریک ہیں۔آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ اس وقت اللہ کے کام دو طریق پر چل رہے ہیں۔کچھ حصہ کاموں کا مجلس معتمدین کے ذریعہ جو صدر انجمن احمد یہ کہلاتی ہے انجام پاتا ہے اور کچھ نظارت کے ذریعہ ہوتا ہے۔۱۹۲۴ ء میں جو مجلس شوریٰ ہوئی اس میں بڑی بحث و مباحثے اور تبادلہ خیالات کے بعد یہ فیصلہ ہوا تھا کہ ان دونوں صیغوں کو ملا دیا جائے اور مجلس معتمدین کے کام کو بھی نظارت کے سپرد کر دیا جائے۔میں نے اس فیصلہ کے بعد غور کر کے اس میں کسی قدر تبدیلی کر دی ہے۔اور وہ یہ کہ گو جیسا کہ میں نے بارہا سنایا ہے۔صدر انجمن کا نام اور اس کے کام کا طریق اوروں کا تجویز کردہ تھانہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کا لیکن چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی اس کے متعلق منظوری ہو چکی تھی۔اس لئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ تمام نام جو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے زمانہ میں قرار پا چکے تھے ، ان کو قائم رکھا جائے۔جیسا کہ میں نے ریویو اور تشحیذ الاذہان ملاتے وقت اس نام کو عظمت دی تھی جو حضرت مسیح موعود نے تجویز کیا تھا۔اور اب رسالہ پر موٹاریویو آف ریلیجنز لکھا جاتا ہے۔اور باریک تشحيذ الاذہان پس جب کام ایک ہی رنگ میں ہو تا ہے تو کیا وجہ ہے کہ اس نام کو چھوڑ دیا جائے جو کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے تجویز نہ کیا ہو مگر آپ نے منظور کیا ہو۔پس بجائے