انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 105

بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نسلی علی رسولہ الکریم آل مسلم پارٹیز کانفرنس کے پروگرام پر ایک نظر (رقم فرموده مورخہ ۱۳ جولائی ۱۹۲۵ء) آل مسلم پارٹیز کانفرنس کے پروگرام کی ایک کاپی مجھے بھی بھیجی گئی ہے اور خواہش کی گئی ہے کہ میں بھی اس میں شامل ہوں۔چونکہ نظر بر حالاتِ موجودہ میں خود شمولیت کرنے سے معذورہوں اس لئے تحریراً میں اپنے نمائندوں کے ذریعہ سے اپنے خیالات زیر بحث مواضیع کے متعلق بیان کرتا ہوں۔اور یہ بھی بیان کر دینا چاہتا ہوں کہ یہی خیالات جماعت احمدیہ کے اس حصہ کے ہیں جو میری بیعت میں شامل ہے اور جو اس کے مطابق عمل کر رہا ہے اور دوسری جماعتوں سے مل کر جہاں تک اس کے عقائد اور اس کی قومی ضروریات اجازت دیں عمل کرنے کے لئے تیار ہے۔چونکہ یہ دعوت مجھے دیر سے پہنچی ہے اور چونکہ بوجہ بیماری میں صرف آج کے تیرہ تاریخ ہے اس پر کچھ لکھنے کے قابل ہوا ہوں اس لئے مجبوراً نہایت اختصار سے اس پر اپنے خیالات کا اظہار کر سکتا ہوں۔اسلام کی سیاسی اور مذہبی تعریف مجھے ابتداء ہی میں اس بات کو بتادینا چاہئے کہ کبھی بھی آل مسلم پارٹیز کانفرنس کے داعیان کو اپنے مقصد میں کامیابی نہیں ہو سکتی جب تک کہ یہ اس امر کو نہ سمجھ لیں اور سب مسلمانوں کو اپنا ہم خیال نہ بنا لیں کہ اسلام کی اس زمانہ میں دو تعریفیں ہیں۔ایک مذہبی اور ایک سیاسی- مذہبی تعریف ہر ایک شخص کے اختیار میں ہے وہ جو چاہے تعریف کرے اور اس کے مطابق جس کو چاہے کافر بنائے اور جس کو چاہے مسلمان۔کسی کا حق نہیں کہ اس پر اس سے ناراض ہو گو ہر ایک کا حق