انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 74

۷۴ حج بیت الله او رفتنہ حجاز مصری لشکر کچھ نہ کر سکا۔اور آخر ۱۸۱۳ء میں خود محمد علی پاشاس مہم کو سر کرنے کے لئے آۓ۔پھر بھی کچھ نہ ہوا۔بلکہ ۱۸۱۴ء میں طوسون پاشا کو طائف پر پھر سخت شکست ہوئی۔مگراسی سال سعود بن سعود فوت ہو گئے۔ان کے بیٹے عبد اللہ نے مصریوں سے صلح کرنی چاہی مگر محمد علی پاشا نے انکار کر دیا اور نجد پر حملہ کر کے وہابی فوجوں کو شکست دی۔اور عبد الله بن مسعود کو صلح پر مجبور کیا۔مگر مصری فوجوں کی واپسی پر عبد اللہ نے معاہدہ کی پابندی سے انکار کر دیا۔اس وقت طوسون پاشا کی جگہ ابراہیم پاشا کمانڈر مقرر ہو چکے تھے۔انہوں نے بدوی قبائل کو پھاڑ کر اپنے ساتھ ملا لیا۔اور پھر عبد الله بن سعود کو شکست دی۔اور نجد کے کئی شہروں کو فتح کرنے کے بعد۱۸۱۸ء میں داریہ کو جو نجد کا دارالخلافہ تھا فتح کر لیا۔عبد اللہ اپنے چار سو ہمرا یوں سمیت قید ہوئے۔اور ان کو قطنطنیہ بھیج دیا گیا۔جہاں کے باوجود ابراہیم پاشا کی سفارش کے ان کو قتل کر دیا گیا۔دارالامارۃ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی اور نجد کے تمام شہروں میں مصری فوجیں رکھی گئیں۔تھوڑے ہی عرصہ کے بعد ترکی جو عبد اللہ کے بیٹے تھے۔انہوں نے بغاوت کر کے پھر اپنی حکومت قائم کی مگر خراج مصر کو ادا کرتے رہے۔ان کے بیٹے فیصل بن سعود نے چونکہ خراج دینے سے انکار کردیا اس لئے ان پر چڑھائی ہوئی۔اور ان کو قید کر کےقاہرہ پہنچادیا گیا۔اور ان کی جگہ ان کے ایک رشتہ دار خالد کو ریاض میں جواب نجد کادَارُ الامارت ہو گیا تھا حاکم مقرر کردیا میا- ۱۸۴۲ء میں فیصل بن سعود قاہرہ سے بھاگ کر پھر نجد پہنچے اور ملک نے ان کو اپنا بادشاہ تسلیم کیا۔بظا ہروہابی طاقت پھر قائم ہو گئی مگر عمان ، یمن اور بحرین پر وہابی تسلط نہ کر سکے۔عبد اللہ بن رشيد اسی زمانہ میں جبل شمر میں ایک نئی طاقت بڑھے گی۔یہ طاقت عبد الله بن رشید کی تھی۔۱۸۳۶ء میں جب فیصل بن سعود کو مصریوں نے قید کر کے قاہرہ بھیج دیا تو اس عرصہ میں عبد الله بن رشید نے اپنی حکومت کو شمال مغربی علاقہ میں مضبوط کرنا شروع کیا۔اس کے بعد اس کے بیٹے طلال نے اور بھی اس ریاست کو مضبوط کیا۔کنویں لگوائے، باغات لگاۓ ، قلعے بنوائے ، سکول جاری کئے اور ملک کی وسعت کو بڑھانا شروع کیاحتی کہ خیبر ،تیما اور جوف کے علاقے بھی جبل (دارالامارة ابن رشید )کے ماتحت ہو گئے۔مگر وہابیوں سے جنگ سے بچنے کے لئے ابن رشید کی حکومت نے ان سے تعلق کو قائم رکھا۔اور کسی طرح ان کو ناراض نہ ہونے دیا۔اور اس طرح اپنی طاقت کو بڑھایا۔مگربالمقال ابن سعود کی حکومت کمزور ہوتی چلی گئی اور مشرقی قبائل آزاد ہوتے گئے۔یہاں تک کہ ۱۸۶۷ء میں ترکوں نے نجد کو اپنی