انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 60

۶۰ حضرت مسیح موعود اور حیض کا الزام ان میں سے ایک اعتراض یہ ہے کہ حضرت صاحب کا الہام ہے يريدون أن یروا طمثك والله يريد أن یریک انعامہ - الإنعامات المتواترة '۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے معنی یہ لکھے ہیں ’’یہ لوگ خون حیض تجھ میں رکھنا چاہتے ہیں یعنی ناپاکی اور پلیدی اور خباثت کی تلاش میں ہیں اور خدا چاہتا ہے کہ اپنی متواتر نعمتیں جو تیرے پر ہیں دکھلاوے" پھر اس کی تشریح میں آپ تتمه حقيقة الوحی صفحہ ۱۴۳-۱۴۴میں تحریر فرماتے ہیں۔حیض ایک ناپاک چیز ہے مگر بچہ کا جسم اسی سے تیار ہوتا ہے اسی طرح جب انسان خدا کا ہو جاتا ہے تو جس قدر فطرتی ناپاکی اور گند ہوتا ہے جو انسان کی فطرت کو لگا ہوا ہوتا ہے اس سے ایک روحانی جسم تیار ہوتا ہے یہی طمث (حیض ) انسانی ترقیات کا نتیجہ ہے اسی بناء پر صوفیہ کا قول ہے کہ اگر گناہ نہ ہوتا تو انسان کوئی ترقی نہ کر سکتا۔آدم کی ترقیات کا بھی یہی موجب ہواپس ہر ایک ابن آدم اپنے اند را یک حیض کی ناپاکی رکھتا ہے مگر وہ جو سچے دل سے خدا کی طرف رجوع کرتا ہے وہی حیض اس کا ایک پاک لڑ کے کا جسم تیار کر دیتا ہے۔اسی بناء پر خدامیں فانی ہونے والے اطفال اللہ کہلاتے ہیں۔لیکن یہ نہیں کہ وہ خدا کے در حقیقت بیٹے ہوتے ہیں۔کیونکہ یہ تو کلمہ کفر ہے اور خدا بیٹوں سے پاک ہے بلکہ اس لئے استعارہ کے رنگ میں وہ خدا کے بیٹے کہلاتے ہیں کہ وہ بچہ کی طرح دلی جوش سے خدا کو یاد کرتے ہیں۔‘‘ یہ الفاظ ہیں جن پر مولوی تین دن ہنسی اُڑا تے رہے اور کہتے رہے کہ مرزا صاحب کو اسی طرح حیض آتا تھا جس طرح عورتوں کو آتا ہے۔اول تو حضرت صاحب نے خود تشریح کردی ہے کہ حیض سے مراد طبعی کمزوریاں ہیں اور یہ استعارہ ہے۔پس جب لکھنے والا کہتا ہے کہ حیض سے مراد حیض نہیں تو پھر بھی اس پر زور دینا اس سے زیادہ غیر شریفانہ کی بات ہو سکتی ہے۔اصطلاح حیض اور گذشتہ بزرگ دو سرے یہ اصطلاح حضرت مرزا صاحب ہی کی نہیں ہے بلکہ جن کو یہ لوگ بزرگ کہتے ہیں انہوں نے بھی لکھا ہے چنانچہ مجالس الأبرار میں لکھا ہے وأما الكرامة بمعنی ظهور آمر خارق للعادة فلا عبرة لها بل حیض كيف الرجال کہ کرامت ولیوں کے لئے حیض کے طور پر ہوتی ہے کہ اسے چھپاتے ہیں۔