انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 59

۵۹ نہیں گذرا جس کی ان مولویوں نے بے عزتی نہیں کی اور نبیوں پر انہوں نے چوری، جھوٹ، دغا قتل، زنا کے الزام نہیں لگائے اگر انہوں نے ان انبیاء کو سچامانتے ہوئے یہ کیا ہے تو جسے سچانہیں مانتے اس کے ساتھ جو کچھ کر یں تھوڑا ہے۔مخالف مولویوں سے ایک شکوہ ہاں صرف ایک شکوہ ہے اور وہ یہ کہ اے مولویو! اے محمدﷺکی امت کہلانے والو! اے عقل و خرد کا دعویٰ کرنے والو!جب تم کسی نبی کو چور، کسی کو جھوٹا ،کسی کو دوسرے کی عورت چھین لینے والا اور رسول کریم ﷺ کو اپنی پھوپھی کی شادی شد ہ بیٹی پر عاشق ہو کر اس سے شادی کرنے والا کہتے ہو اور باوجود اس کے ان کوسچے نبی مانتے ہو تو کیوں آج اس نبی کو نہیں مانتے جس پراسی قسم کے الزام لگاتے ہو۔تم تو ہمیشہ نبیوں کے عیب نکا لتے چلے آئے ہو جو تمہاری عقل کی کو تاہی ہے پھر آج کیوں انکار کر رہے ہو۔یہ سوال تم ان لوگوں سے کر سکتے ہو اور یہ جائز سوال ہے کیونکہ ایک بَھینگا جس کو تجربہ ہو کہ وہ ایک چیز کو دو ہی دیکھتا ہے وہ اس بات کو سمجھ جاتا ہے اور جب وہ دیکھتا ہے تو کہتا ہے ایک ہی ہے۔کہتے ہیں کہ کی بَھینگانو کر تھا آقا نے اسے کہا کہ شیشہ اُٹھالا ؤ وہ گیا تو اسے دو شیشے نظر آئے واپس آکر آقاے کہا کونسالاؤں - آقانے کہا ایک ہی ہے وہ لے آؤ مگروه بار بار یہی کہتا رہا کہ دو ہیں تنگ آکر آقا نے کہا ایک کو توڑ دو اور دو سرا لے آؤ۔اس نے جب ایک کو توڑا تو کوئی بھی نہ رہا۔اس سے اس کو معلوم ہو گیا کہ میں ایک ہی کو دودیکھتا تھا۔تو بَھینگے کو پتہ ہوتا ہے کہ چیز ایک ہوتی ہے اور وہ دیکھتادو ہے۔مگر افسوس! ان بَھینگوں پر کہ حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ‘حضرت داؤد، حضرت سلیمان اور حضرت رسول کریم ﷺ میں انہوں نے عیب دیکھے اور خدا نے کہا یہ سچے ہیں اس بات کو انہوں نے بھی تسلیم کیا مگر آج اتنی مثالیں ہوتے ہوئے بھی انہیں یہ پتہ نہ لگا کہ سب نبیوں میں انہیں عیب ہی نظر آتے رہے ہیں یہ لوگ سات ہزار سال سے نبیوں میں عیب دیکھتے چلے آئے ہیں پھر بھی ان کو پتہ نہ لگا کہ ان کی آنکھ میں نقص ہے اس لئے انہیں عیب نظر آتے ہیں ورنہ حضرت مرزا صاحب بھی خدا کے سچے نبی ہیں۔ان لوگوں نے جو اعتراض کئے ہیں ان میں سے بعض موٹے موٹے میں نے سنے ہیں جنہیں سن کر حیرت ہوتی ہے۔