انوارالعلوم (جلد 8) — Page 591
حضرت صاحب:۔پھر یہ مسئلہ صاف ہے جب ایک شخص انکار کرتا ہے اور مانتا نہیں خواہ کسی وجہ سے نہیں مانتا وہ کافر کہلائے گا۔ہاں کا فر کے مفہوم میں یہ بات داخل نہیں کہ وہ سزا بھی ضرور پائے گا۔سزا دینا یہ ہمارا کام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کسی کے انکار کی کیا وجہ ہے۔آیا جان بوجھ کر اس نے انکار کیا ہے یا جہالت اور نادانی سے یا وہ دیوانہ ہے۔غرض اس کا بہترین علم خدا ہی کو ہے اور سزا جزاء اسی کے ہاتھ میں ہے۔ایک شخص اگر ناوا قفی کی وجہ سے انکار کر رہا ہے تو کسی سزا کا مستحق نہیں۔اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ ایک شخص غلطی سے آپ کے گھر میں آ گیا وہ کسی چوری کی نیت یا شرارت سے نہیں آیا تو آپ اس کو سزانہ دیں گی کیونکہ وہ جانتانہ تھا۔جب ہم یہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص کافر ہے تو ہم اس کے عذاب کا سوال ہاتھ میں نہیں لے لیتے۔لوگ غلطی سے ان دونوں باتوں کو ملادیتے ہیں۔ہم ان کو یہ کہتے ہیں کہ اس نے خدا کے ایک نبی کا انکار کیا ہے۔اگر وہ مسیح موعود کا انکار اسی وجہ سے کرتے ہیں کہ ان کو علم نہیں کہ وہ مسیح موعود اور خد اکانبی ہے تو اس ناواقفی کی وجہ سے وہ مستوجب سزا نہیں لیکن جو جان بوجھ کر انکار کرتے ہیں یا غور کرناہی نہیں چاہتے وہ اپنی لاعلمی سے فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ وہ جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں اس لئے وہ سزا کے قابل ہیں۔پس جب ہم کافر کہتے ہیں تو اس کے یہ معنے نہیں کہ وہ عذاب دیا جائے گا۔یہ خدا کا کام ہے ہمارا نہیں۔بہت سے ہندو ،یہودی، عیسائی‘ زرتشتی ایسے ہو سکتے ہیں جنہوں نے آنحضرت ﷺ کا نام بھی نہ سنا ہو وہ کافر تو ہوں گے۔لیکن ہم نہیں کہیں گے کہ وہ اس امر میں قابل مؤاخذہ ہیں یہ فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ہمارے راستہ میں یہ ایک مشکل ہے کہ لوگ کافر کی حقیقت سے واقف نہیں اور جو ہم بیان کرتے ہیں اس کو نہ تو سمجھتے ہیں نہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔تم خوددیانتداری سے اس شخص کو جو آنحضرتﷺ کو نہیں مانتا (خواہ اس کی وجہ کچھ بھی ہو) مومن نہیں کہہ سکتی ہو پس جب کہ تم خود کہتی ہو کہ ابھی میں نے مسیح موعود کو قبول نہیں کیا۔میں تم سے پوچھتا ہوں کہ اس کا نام کیا رکھا جاوے۔یہ دوسری بات ہے کہ تم نے جان بوجھ کر ایسا کیاہے یالا علمی کی وجہ سے؟ اس پر موتی بیگم خاموش ہو گئی اور اس کے چہرہ سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ اس معقول بات کو سمجھ گئی ہے۔اس نے ایک دوسری مِس کو پیش کیا کہ یہ میری دوست ہیں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتی ہیں۔