انوارالعلوم (جلد 8) — Page 580
۵۸۰ (۳) کاروباری زندگی میں عورتیں پردہ کی رعایت رکھ کر مردوں سے کو آپریٹ کر سکتی ہیں۔(۴) ہمارا فرض یہی ہے کہ خدا تعالی کے احکام لوگوں تک پہنچادیں اور ان کو سمجھادیں ہم عمل پر ان کو مجبور نہیں کر سکتے۔معقولیت کے ساتھ سمجھاسکتے ہیں کسی حکم کی حکمت اور فوائد دلیل سے بتا سکتے ہیں لیکن یہ کہ ہم اس پر عمل کراو یں یہ ہمارے اختیار کی بات نہیں۔ہاں یہ میں کہتا ہوں کہ اگر معقولیت کے ساتھ سن لینے کے بعد بھی ایک حق کا انکار کریں گے تو خدا کی طرف سے ایسے حالات پیدا ہو جائیں گے کہ انہیں اس کو تسلیم کرنا پڑے گا۔(۵) انسان کی آزادی کی مثال ایسی ہی ہے کہ جیسے ایک گھوڑے کے گلے میں رسی پڑی ہوئی ہو اور وہ بہت لمبی ہو اور وہ اِدهر اُد هر چرتا پھرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ آزاد ہے لیکن جب اس رسی کے انتہائی درجہ تک پہنچتا ہے تب اسے معلوم ہو تا ہے کہ وہ آزاد نہیں بلکہ پابند ہے یہ خیال صحیح نہیں کہ انسان آزاد ہے اس آزادی کی ایک انتہاء ہے۔(۶) جولوگ خدا تعالی کے ماننے والے ہیں وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ قیامت ہوگی اور دنیا کا انجام ہو گا تو اس صورت میں ان کو یہ ماننا پڑے گا کہ کوئی نہ کوئی آخری قانون ہے اور یہ قدرتی بات ہے۔یہی ہم کہتے ہیں کہ وہ آخری قانون قرآن مجید ہے۔انسان جس قدر ترقی کرے قرآن مجید اس کی ضروریات کے لئے کافی ہے۔ایک پروفیسر صاحب سے گفتگو معمولی رسمی گفتگو مزاج پُرسی وغیرہ سے شروع ہوئی۔اس نے دریافت کیا کہ آپ پیرس میں کب تک ٹھہریں گے۔آپ نے فرمایا ایک ہفتہ کے قریب ٹھہرنے کا ارادہ ہے۔پھر اس نے پوچھا کہ ہندوستان کے سِوا آپ کا سلسلہ کہاں تک پھیلا ہوا ہے۔آپ نے فرمایا ہندوستان تو سلسلہ کا مرکز ہی ہے اس کے علاوہ تمام دنیا میں میری جماعت پھیلی ہوئی ہے۔مغربی افریقہ ,ماریشس ،سیلون ،افغانستان ،بخارا، ایران، چین، سماٹره، مصر، انگلستان ،امریکہ بیلجیئم ، ہالینڈ، روس، جرمنی، آسٹریلیا غرض ہر حصئہ دنیا میں یہ جماعت پھیلی ہوئی ہے اور خدا کے فضل سے ترقی کر رہی ہے۔میں نے شام (سیریا) کا سفر کیا ہے دمشق میں یہ حالت تھی کہ ہروقت کئی کئی سو آدمی کا مجمع رہتا تھا۔ہوٹل والے نے آخر دروازے بند کر دیئے اور پولیس کو بلایا۔لوگ ہوٹل کے نیچے کثیر تعداد میں جمع رہتے اور پولیس سے جا کر اجازت لے لے کر آتے تھے اور جب میں وہاں سے بیروت کے لئے روانہ ہو اتو باوجود یہ کہ کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی بہت بڑا مجمع سٹیشن پر ہو گیا۔