انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 572 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 572

۵۷۲ جلادیئے۔زمیندار بھی لکھتا ہے کہ احمدیوں نے خوست میں یہ مشہور کر کے کہ امیر احمدی ہوگیا ہے، بغاوت پھیلو ادی۔باغی امیر کے خلاف یہ ہتھیار استعمال کرتے ہیں کہ وہ احمدیوں کے اثر کے نیچے ہے۔اور باوجود اس کے ایک ذمہ دار اخبار لکھتا ہے کہ وہ خوست کے باغیوں کا سرغنہ تھا۔یہ ایسی ہی بات ہے جس طرح کوئی اخبار یہ لکھ دہے کہ مصطفٰے کمال پاشا یونانی سازشیوں کا سرغنہ ہے۔جو خط میرا بہائیوں کے متعلق شائع ہوا ہے اس کا پچھلا حصہ بھائی جی (شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی )سے لکھوایا تھا۔ان سے لکھنے میں غلطی ہوگئی ہے۔اس میں لکھا ہے کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ مولوی رحیم بخش صاحب گئے تھے تو میں نے ان کو کہا کہ ان لوگوں سے جاکر ملیں۔لیکن میں نے ان کو یہ لکھوایا تھا کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ وہ لوگ آئے ہیں تو میں نے مولوی رحیم بخش صاحب کو کہا کہ وہ جاکر ان سے ملیں۔کیونکہ یہ تو مجھے پہلے سے معلوم تھا کہ مولوی رحیم بخش صاحب وہاں گئے ہیں۔ٍ اصل واقعہ یہ ہے کہ ہم صبح کے وقت سیر کو چلے۔راستہ میں میں نے گاڑی والے سے پوچھا کہ کیا یہاں بہائی رہتے ہیں۔اس نے کہاں ہاں اسی سڑک پر رہتے ہیں اور راستہ میں ایک مکان دکھایا کہ یہ ان کا ہے۔جب ہم سیر سے واپس آرہے تھے تو بعض دوستوں نے چاہا کہ وہاں جاکر ان کی حالت کو دیکھیں۔میں نے سڑک پر گاڑی کھڑی کروالی۔اور مولوی رحیم بخش صاحب اور ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب اور میاں شریف احمد صاحب اندر چلے گئے۔وہاں سے وہ واپس آئے اور انہوں نے بتایا کہ مردانے مکان میں صرف بچے تھے۔ہم نے ان میں سے شوقی کے بھائی کی تصویر لے لی ہے اور مکان کی۔اور یہ کہ نوکر کہتاتھا کہ ٹھہرو۔ہم نے کہاجب شوقی آفندی صاحب یہاں نہیں تو ہم نے کیا ٹھہرنا ہے۔نوکر نے وہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کہا کہ شوقی آفندی کے والد اندر ہیں مگر وہ نہ آئے۔اس کے بعد ہم ہوٹل کو اور پھر سٹیشن کو واپس آگئے۔کیونکہ دمشق کی گاڑی کا وقت قریب تھا۔اور ہم حیفا میں رات صرف اس وجہ سے ٹھہرے تھے کہ گاڑی دوسرے دن دس بجے چلنی تھی۔جب ہم سٹیشن پر پہنچے تو ابھی اندر نہ گئے تھے کہ کسی شخص نے مجھے بتایا کہ شوقی آفندی کے والد آئے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ مرزا صاحب کے خلیفہ جو ہمارے مکان پر گئے تھے وہ کہاں ہیں؟ جب مجھے یہ معلوم ہوا تو میں نے مولوی رحیم بخش صاحب کو کہا کہ آپ ان سے جا کر ملیں اور بتائیں کہ میں گیا تھا کہ ان کی غلط فہمی دور ہوجائے۔اس کے بعد میں سٹیشن میں داخل ہونے