انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 565 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 565

۵۶۵ اس کا کوئی نقص ہے اور وہ ماتحت کام نہ کرتا ہو تو اس کی اطلاع فوراً مرکز کو کرنی چاہے اوربتانا چاہئے کہ کیا نقص ہے؟ یہاں کے انچارج ہمیشہ ایک غلطی کرتے رہے ہیں کہ اپنے آپ کو ایک مستقل چیز سمجھتے رہے ہیں۔سلسلہ کو بھی ایسی اطلاع نہیں دی جس سے معلوم ہو کہ کیا غلطی ہو رہی ہے۔لکھا تو یہ لکھ دیا کہ فلاں سے غلطی ہوئی اللہ معاف کرے مگر یہ نہ بتایا کہ کیا غلطی ہوئی۔گویا وہ خود ہی ایک مستقل چیز تھے مرکز کے لئے ضروری نہیں کہ اس سے واقف ہو۔یہ غلطی پہلوں نے کی ہے آئنده نہیں ہونی چاہئے۔مبلغ کا فرض ہے کہ ہر حالت کا اور ایک ایک بات کا نقشہ بھیجے خواہ مخالف کے متعلق ہو یا موافق کے اور ان کا فرض ہے کہ اپنی موافق اور مخالف ہر قسم کی کوششوں کا علم رکھیں۔رسول الله ﷺاس قدر خیال رکھتے تھے کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے بعض کا قول نقل کیا ہے کہ وہ کہتے تھے۔ھو اذن ۳ نبی کریم ﷺ تو کان ہی کان ہیں یہ امر ظاہر کرتا ہے کہ نبی کریمؐ کس قدر محتاط اور باخبر تھے اور آپ کا یہ نمونہ اسی لئے ہے کہ مومن اسی طرح ہوشیار اور باخبر رہے۔لوگوں کو یہ کہہ دینا کافی نہیں ہوتا کہ یہ جھوٹ ہے غلط ہے وہ اس سے زیادہ چاہتے ہیں۔سنی سنائی بات نہ ہو واقعات سے اس کی تائید ہو۔غرض کوئی بات ہومخالف ہو یا موافق وه مرکز میں لکھنی چاہئے بغیر اس کےصحیح ہدایات نہیں مل سکتیں اور کام کا نقصان ہوتا ہے پس پہلے اگر یہ غلطی ہوئی ہے تو آئندہ نہیں ہونی چاہئے۔مبلّغ کے فرائض میں یہ بات بھی ہے کہ وہ سوشل ہو اور لوگوں سے اپنے تعلقات کو بڑھائے۔اس معاملہ میں بھی اب تک مبلّغین سے ایک غلطی ہوئی ہے کہ انہوں نے سوسائٹی کے اعلی ٰطبقہ کو چھوڑ دیا اور انہوں نے اس کی طرف توجہ ہی نہیں کی اور کوشش ہی نہیں کی کہ ان سے ملیں اور اپنے تعلقات کو بڑھائیں۔کسی کام کی عمدگی کا اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ اس کے کام کو کیا سمجھتے ہیں اور جس قسم کی سوسائٹی میں وہ کام کرتا ہے اس پر اثر پڑتا ہے۔آنحضرت ﷺنے دیکھا کہ ایک مسلمان دشمن کے سامنے اکڑ کر چلتا تھا آپ نے فرمایا کہ اکڑ کر چلنا اچھا نہیں مگر اس کا چلناخد ا کو پسند ہے۔؎ بعض اوقات دکھانا بھی ضروری ہوتا ہے۔غرض تعلقات کے بڑھانے میں سوسائٹی کے اعلیٰ