انوارالعلوم (جلد 8) — Page 496
۴۹۶ گورنمنٹ سے اچھی طرح دریافت کر لیا جائے۔ارکان حکومت کابل کے مواعید: چنانچہ جب محمود طرزی صاحب سابق سفیر پیرس کی قیادت میں افغان گورنمنٹ کا ایک مشن برٹش گورنمنٹ سے معاہدہ صلح کرنے کے لئے آیا تو اس وقت میں نے ان کی طرف ایک وفد اپنی جماعت کے لوگوں کا بھیجا تاکہ وہ ان سے دریافت کرے کہ کیا مذہبی آزادی دوسرے لوگوں کے لئے ہے یا احمدیوں کے لئے بھی- اگر احمدیوں کے لئے بھی ہے تو وہ لوگ جو اپنے گھر بار چھوڑ کر قادیان میں آگئے ہیں واپس اپنے گھروں کو چلے جاویں- محمود طرزی صاحب نے میرے بھیجے ہوئے وفد کو یقین دلایا کہ افغانستان میں احمدیوں کو اب کوئی تکلیف نہ ہوگی کیونکہ ظلم کا زمانہ چلا گیاہے اور اب اس ملک میں کامل مذہبی آزادی ہے- اسی طرح دوسرے ممبران وفد نے بھی یقین دلایا- ان لوگوں میں سے جو اپنے ملک کو چھوڑ کر قادیان آگئے ہیں ایک نوجوان نیک محمد بھی ہے جو احمدیت کے اظہار کی آزادی نہ پاکر چودہ سال کی عمر میں اپنا وطن چھوڑ کر چلا آیا تھا- اس نوجوان کا والد غزنی کے علاقہ کا رئیس تھا اور غزنی کا گورنر بھی رہا ہے- یہ نوجوان بھی وفد کے ساتھ تھا- اس کو دیکھ کر کئی ممبران وفد کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور انہوں نے کہا کہ ایسے ایسے معزز خاندانوں کے بچے اس عمر میں اپنے عزیزوں سے جُدا ہو کر دوسرے وطنوں کو جانے پر مجبور ہوں یہ بہت بڑا ظلم ہے جو ہز میجسٹی امیر امان اﷲخان کے وقت میں نہ ہوگا اور ایشیائی طریق پر اپنے سینوں پر ہاتھ مار کرکہنے لگے کہ تم واپس وطن کو چلو دیکھیں تم کو کون ترچھی نظر سے بھی دیکھتا ہے- اس ملاقات کے نتیجہ میں ہمارا وفد اپنے نزدیک نہایت کامیاب واپس آیا مگر مزید احتیاط کے طور پر مَیں نے چاہا کہ امیر افغانستان کو اپنے عقائد سے بھی مطلع کردیا جائے اور ہماری امن پسند عادت سے بھی آگاہ کردیا جائے تاکہ پھر کوئی بات نہ پیدا ہو اور میں نے مولوی نعمت اﷲخان کو ہدایت کی کہ وہ محمود طرزی صاحب سے ان کی واپسی پر ملیں اور ان سے بعض احمدیوں پر جو ظلم ہوا ہے اس کا تذکرہ کریں اور امیر کے سامنے اپنے خیالات پیش کرنے کی بھی اجازت لیں- محمود طرزی صاحب نے ان احمدیوں کی تکلیف کا تو ازالہ کرادیا اور اس امر کی اجازت دی کہ جو خط امیر کے نام آئے وہ اس کو غور سے پڑھیں گے- اس موقع پر ہمارے مبلغ نے اپنے آپ کو جس طرح گورنمنٹ کے سامنے ظاہر کردیا تھا پبلک پر بھی ظاہر کردیا- چونکہ افغانستان کے بعض علاقوں سے یہ خبریں برابر آرہی تھیں کہ احمدیوں پر برابر ظلم ہورہا ہے- ان کو بلاوجہ قید کرلیا جاتا ہے پھر ان سے روپیہ لے کر