انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 481 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 481

۴۸۱ دوره یو رپ روحیں تو ہمیں ترقی کی طرف لے جانے کی فکر میں ہیں مگر وہ ہستی جو سب روحوں کی خالق ہے اور جس نے ہمیں اسی لئے پیدا کیا ہے کہ ہم اس کا قرب حاصل کریں ہماری ترقی کی کوئی فکر نہیں کرتی اور ہمارے لئے اپنے سے ملنے کا کوئی راستہ نہیں کھولتی؟ ہرگز نہیں- اگر کسی کو ہماری ترقی کا فکر ہوسکتا ہے- اگرکسی کو ہم سے ملاقات کا خیال ہوسکتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی ذات ہے- بے شک خدا تعالیٰ سے یگانگت کے لئے شرطیں ہونی چاہئیں- بے شک اس سے وصال کے لئے بندہ میں ایک خاص قسم کی پاکیزگی کا وجود ہونا ضروری ہے- بے شک اس کا دروازہ کھلنے سے پہلے ہماری طرف سے دستک ملنی چاہیے مگر بہرحال اس کا دروازہ کھلنے کا امکان ہر وقت موجود رہنا چاہیے۔اور مسیح موعودؑ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ پیغام لایا ہے کہ یہ امکان موجود ہے اگر تم چاہو اور میری بتائی ہوئی ہدایت کے مطابق عمل کرو تو آج بھی تم میرے کلام کو اسی طرح سن سکتے ہو جس طرح کہ پہلے لوگ سن سکتے تھے اور آج بھی تمہارے لئے میں اپنی طاقتوں کو اسی طرح ظاہر کرسکتا ہوں جس طرح پہلے لوگوں کے لئے کیا کرتا تھا۔خدا اور بندے میں صلح یہ پیغام کیسا اُمید افزا ہے- کس طرح بندے اور خدا تعالیٰ کے درمیان صلح کرانے والا ہے- مجھے اس کے متعلق کچھ کہنے کی ضرورت نہیں مگر میں اس بات کے کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس پیغام کے ذریعہ سے مسیح موعودؑ نے خدا تعالیٰ اور بندوں کے درمیان صلح کرادی ہے اور ثابت کردیا ہے کہ آج کل کے لوگ خدا تعالیٰ سے سوتیلے بیٹے کاسا تعلق نہیں رکھتے بلکہ وہ ان سے ایسی محبت کرتا ہے جیسا کہ سگے بیٹے سے کی جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود کا دعویٰ حضرت مسیح موعودؑ کا دعویٰ معمولی دعویٰ نہیں- آپ کا دعویٰ ہی آپ کی صداقت کی دلیل ہے کیونکہ یہ کہنا تو آسان ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں مگر یہ کہنا کہ میں ہر اک شخص کو خدا تعالیٰ تک پہنچا سکتا ہوں نہایت مشکل ہے- اول الذکر ایک ایسا دعویٰ ہے کہ جس کی صحت اور عدم صحت صرف دلیلوں سے تعلق رکھتی ہے اور دلیلوں میں بہت کچھ اُتار چڑھاؤ کئے جاسکتے ہیں مگر ثانی الذکر دعویٰ جس کا تعلق مشاہدہ سے ہے اور مشاہدہ کرادینا آسان کام نہیں مگر مسیح موعودؑ نے نہ صرف یہ دعویٰ کیا بلکہ ہزاروں آدمیوں نے آپ کی تعلیم پر چل کر خدا تعالیٰ کے نشانات کو دیکھ لیا اور اس کے کلام کو