انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 448

۴۴۸ دوره یو رپ پیشگوئیوں اور حضرت مسیح موعودؑ کے بعض الہامات سے معلوم ہوتاہے کہ یہودی ضرور اس ملک میں آباد ہونے میں کامیاب ہو جائیں گئے ہیں میرے نزدیک مسلمان رؤساکا یہ اطمینان بالآخران کی تباہی کاموجب ہوگا۔مسلمانان ِفلسطین کو مشورہ جہاں تک میرا خیال ہے مسلمانوں کو یہودیوں اور عیسائیوں سے ایک ایسا سمجھوتہ کر لینا چاہیے جس سے یہودیوں کو اس ملک میں بسنے کا بھی موقع مل جائے اور مسلمانوں کی برتری بھی ہمیشہ کے لئے قائم رہ جائے۔میں نے اس امر کے لئے ایک سکیم سوچی ہے۔مگر اس کا اس جگہ پر بیان کرنا اصل مضمون سے باہر جاتا ہے۔اس وجہ سے میں اس کو یہاں بیان نہیں کرتا۔فلسطین کے ہائی کمشنر سے ملاقات فلسطین کے گورنر ہائی کمشنر کہلاتے ہیں۔اصل ہائی کمشنر آج کل ولایت گئے ہوئے ہیں۔ان کی جگہ سر گلبرٹ کلیٹن کام کر رہے ہیں۔میں ان سے ملا تھا۔ایک گھنٹہ تک ان سے ملکی معاملات کے متعلق گفتگو ہوتی رہی۔وہ انگریزی النسل ہیں اور مسلمانوں سے ہمد ردی رکھتے ہیں۔انہوں نے آئندہ ملک کی ترقی کے متعلق جو سکیم تیار کی ہے وہ میرے نزدیک بہت ہی مفید ہو سکتی ہے۔مگر افسوس ہے کہ وہ جلدی ملازمت سے ریٹائر ہونا چاہتے ہیں۔ممکن ہے ان کے بعد دوسرے لوگ اس سکیم کو عمدگی سے نہ چلاسکیں۔مسلمانوں کو عام طور پر یہ شکایت تھی کہ تعلیمی معاملات میں ہمیں آزادی نہیں۔میں نے اس امر کے متعلق ان سے گفتگو کی۔اور انہوں نے اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ مسلمانوں کی یہ شکایت ایک حد تک بجا ہے مجھے بتایا کہ ایک دن پہلے ہی انہوں نے ایک تجویز وزارت برطانیہ کے غور کے لئے بھیجی ہے جس میں انہوں نے چاہا ہے کہ ایک سب کمیٹی بنادی جائے جس کو تعلیمی معاملات میں بہت کچھ اختیارات دے دیئے جائیں۔سرکلیٹن صاحب کو پہلی ملاقات میں ہمارے سلسلہ سے بھی بہت دلچسپی ہو گئی۔اور گو ہم نے دوسرے دن روانہ ہوا تھا مگر انہوں نے اصرار کیا کہ ڈیڑھ بجے ہم ان کے ساتھ کھانا کھائیں۔چنانچہ ڈیڑھ گھنٹہ تک دوسرے دن بھی ان کے ساتھ گفتگو رہی اور فلسطین کی حالت کے متعلق بہت سی معلومات مجھے ان سے حاصل ہوئیں۔