انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 447 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 447

۴۴۷ دوره یو رپ غریب یہودیوں کو وہاں لا لا کر بسارہے ہیں۔زمین مفت دیتے ہیں اور کام چلانے کے لئے روپیہ دیتے ہیں اور پھر اس روپیہ کو قسط وار وصول کر لیتے ہیں۔اس طرح سے غرباء کے اس ملک میں آباد ہونے اور ترقی کرنے کا بہت عمدہ موقع ہے مگر چونکہ امراء جو کہ لاکھوں کروڑوں روپیہ امریکہ اور یورپ میں کمارہے ہیں، اپنی جگہوں کو نہیں چھوڑ سکتے اور غرباء جو اس جگہ بسائے جاتے ہیں ان میں سے کافی تعداد ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جن کی غربت کی وجہ ان کی بیچارگی نہیں بلکہ ان کی سُستی ہے۔اس لئے یہ سکیم جیسی کہ امید تھی ،کامیاب ثابت نہیں ہوئی اور کئی یہودی خاندان واپس جارہے ہیں۔مگر باوجود اس کے ریلوں میں یہودی ہی یہودی نظر آتے ہیں، سٹیشنوں پر یہودی ہی یہودی نظر آتے ہیں اور بقیہ نوے فیصدی آبادی کا پتہ نہیں لگتا کہ وہ کہاں ہے۔صرف جب انسان شہروں اور قصبوں میں گُھستا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ملک مسلمانوں کا ہے۔مسلمان اور عیسائی یہودیوں کی اس جدوجہد کے مقابلہ میں بہت سخت کوشش کر رہے ہیں اور بظاہر متفق ہیں۔ان کی کوششوں کو اُکسانے والی ایک یہ بھی بات ہے کہ حکومت کے عہدوں پر عام طور پر یہودی قابض ہیں، مسلمان تو بہت ہی کم نظر آتے ہیں ہاں عیسائی کسی قدر ہیں۔مسلمانوں کے حصے میں صرف پولیس، فوج اور چپڑاس ہی ہے۔یہودیوں کے خلاف مسلمانوں کی کوششیں میں نے جہاں تک غور کیا ہے عیسائیوں کا مسلمانوں سے اتفاق حقیقی اتفاق نہیں ہے۔کیونکہ یہودیوں کے ہاتھ جو زمینیں بیچی ہیں وہ عیسائیوں نے بیچی ہیں۔مسلمانوں اور عیسائیوں نے حکومت کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔اور ایک پارلیمنٹ کی شکل کی ایک مجلس بنائی ہوئی ہے جو تمام ایسے کاموں کو جن میں حکومت کادخل نہیں خود سرانجام دیتی ہے۔اور گویا حکومت کے اندر ایک دوسری حکومت انہوں نے بنالی۔اکثر وہاں کے بڑے بڑے مسلمانوں سے میں ملا ہوں۔میں نے دیکھا کہ وہ مطمئن ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہودیوں کے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔مگر میرے نزدیک ان کی یہ رائے غلط ہے۔یہودی قوم اپنے آبائی ملک پر قبضہ کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔اور جو بھی اس وقت تک ان کو ہوئی ہے وہ ان کے ارادے میں تذلّل پیداکرنے کا موجب نہیں ہو سکتی اور زیادہ تر اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کام ان کے لئے بالکل نیا تھا۔یہودی تجارت پیشہ ہیں ،ان کے لئے بستیوں کا آباد کرنا اور زراعت کروانا بالکل ایک نئی بات ہے۔پس پہلی کوشش میں اگر ان کو کچھ ناکامی ہوئی ہے تو قابل تعجب نہیں۔اور قرآن شریف کی