انوارالعلوم (جلد 8) — Page 445
۴۴۵ دوره یو رپ بیت المقدس میں قیام دودن کے قیام کے بعد ہم دمشق کی طرف روانہ ہوئے مگر چونکہ راستہ میں بیت المقدس پڑتا تھا ،مقامات انبیاء دیکھے بغیر آگے جانا مناسب نہ سمجھا اور دو دن کے لئے وہاں ٹھہر گئے۔بوجہ کثرت زائرین کے اس شہر کا اکژ متولیوں اور خادموں سے بھرا ہوا ہے۔بڑے سے بڑے آدمی کو دیکھ کر شبہ رہتا ہے کہ کہیں اس کی غرض مانگنا ہی تو نہیں۔یہودیوں کی قابل ِرحم حالت یہودی قوم کی قابل رحم حالت جو یہاں نظر آتی ہے کہیں اور نظر نہیں آتی۔بیت المقدس کا سب سے بڑا معبد جسے پہلے مسیحیوں نے یہودیوں سے چھین لیا تھا اور بعد میں مسیحیوں سے چھین کر مسلمانوں نے اسے مسجد بنا دیا۔اس کی دیوار کے ساتھ کھڑے ہو کر ہفتہ میں دودن برابر دو ہزار سال سے یہودی روتے چلے آتے ہیں۔جس دن ہم اس جگہ کو دیکھنے کے لئے گئے وہ دن اتفاق سے ان کے رونے کا تھا۔عورتوں اور مردوں، بوڑھوں اور بچوں کا دیوار کے پیچھے کھڑے ہو کر بائبل کی دعائیں پڑھ پڑھ کر اظہارِ عجز کرنا، ایک نہایت ہی افسردہ کن نظارہ تھا۔چھوٹے چھوٹے بچے بلک بلک کر دیوار سے چمٹ رہے تھے اور بالکل یوں معلوم ہوتا تھا جیسے کسی تازہ وفات یافتہ عزیز کی قبر کو کوئی فارغ الصبر چمٹتا ہے۔ایک دس بارہ سالہ لڑکی کو میں نے دیکھا وہ دیوار کے ساتھ چمٹی چلی جاتی تھی اور اپنی گالوں کو اس کی مٹی سے ملتی تھی اور دو اینٹوں کے درمیان ایک سوراخ تھا اس کے اندر وہ اپنی ناک کو گھسیڑ دیتی تھی اور پھر یوں دیوارسے چمٹ جاتی تھی کہ گویا چاہتی تھی کہ زندہ ہی اس دیوار کے اندر گھس جائے۔مجھ پر اس نظارہ کو دیکھ کر بہت ہی گہرا اثر ہوا اور میرے دل نے محسوس کیا کہ یہ لوگ اس بات کے حق دار ہیں کہ اس پرانے معبد کی زمین کا ایک حصہ ان کو بھی دیا جائے تو وہ اس جگہ اپنا معبد بنا کر اپنے طریق پر خدا کی عبادت کر سکیں۔مگر اس سے بھی زیادہ ایک اور چیز میرے دل کو بے چین کر رہی تھی کہ ان مسلمانوں کا کیا حال ہوگا جنہوں نے حضرت مسیح موعود کا انکار کر کے اپنے آپ کو مثیل یہود بنا لیا۔عالم تصور میں ان کے جُرموں کا خیال کر کے بھی میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے اور میرا دل رحم سے پسیجے جاتا تھا۔مگر افسوس کہ خود اس قوم کو جو خدا کے غضب کو بھڑکا رہی ہے ایک ذرہ بھر بھی فکر میں اور وہ نہایت اطمینان سے اپنی حالت پر قناعت کے بیٹھی ہے۔