انوارالعلوم (جلد 8) — Page 12
۱۲ کرتا ایسی ایسی باتیں نکلتی تھیں کہ میں حیران ہو کر یہ ماننے پر مجبور ہو ا کہ جھوٹ ایسا نہیں ہو سکتا اور بتانے والا اتنی علمی قابلیت نہیں رکھتا تھا کہ ایسی باتیں خود بنالے۔جب مجھے اس طرح یقین ہو گیا تو میں نے اسی وقت عزیز مکرم مرزا بشیر احمد صاحب، شیخ عبد الرحمن صاحب مصری اور شیخ یعقوب علی صاحب کو بلایا اور کہا کہ جرح کر کے دیکھیں کہ کیا حقیقت ہے اور کیا یہ اطلاع ایسی ہے کہ اس کی تحقیقات کی ضرورت ہے۔وسوسہ اندازی کا طریق وہ اطلاع یہ تھی کہ مولوی محفوظ الحق یہاں اس رنگ میں لوگوں سے باتیں کرتا ہے کہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ وہ احمد یت سے خارج ہے مگر وہ دوسروں پر ایسے اثرات ڈالے کہ بہائی مذ ہب سچاہے۔مثلاً کوئی حد یث پیش کی اور کہہ دیا کہ بہاء اللہ پر یہ حد پیٹ زیاد ہ عمدگی سے چسپاں ہوتی ہے۔ہر شخص جو یہ بات سنتا یہ نہیں سمجھتا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بہائیت کا اثر ڈالے بلکہ وہ یہی خیال کرے گا کہ کسی کے دل میں یہ اعتراض پیدا ہوا ہے۔اس کو بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ بھی سمجھتا ہے یااسے یہ خیال ہو سکتا ہے کہ خلیفہ وقت کے ہاتھ پر جو اس نے بیعت کی ہے اس کے سامنے بھی اس نے پیش کیا ہو گا اور اس بات کو حل کرنا چاہتا ہو گا۔اس کے علاوہ قدرتی طور پر یہ خیال نہیں آتا کہ مجھے اس کے تاڑ کر گمراہ کرنے کے لئے یہ بیان کیا ہے۔پھر مجھے بتایا گیا کہ یہاں کچھ ایسے لوگ ہیں جو مخفی طور پر دوسروں کو پڑھنے کے لئے کتا بیں دیتے ہیں اورصداقت سے دور رکھنے اور تاریکی میں ڈالنے کے لئے یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ کتاب مخفی رکھنا کیونکہ یہاں بعض ایسے متعصب لوگ ہیں کہ جس کے ہاتھ میں جس مذہب کی کتاب دیکھتے ہیں اسے اسی مذہب میں سے کہہ دیتے ہیں۔یہ اس لئے کہا جاتا کہ تا کتاب پڑھنے والے کو اگر کوئی شک پیدا ہو تو کسی کے سامنے پیش نہ کرے اور نہ جواب لے پھر بتانے والے نے بتایا کہ وہ ایک کتاب تیار کر رہے ہیں جو اس غرض کے لئے لکھی جارہی ہے کہ اصل مہدی بہاء الله او رباب ہیں مرزا صاحب ان کا راستہ بتانے کے لئے آئے تھے۔چو نکہ دنیا کی حالت ایسی نہ تھی کہ بہاء اللہ کو مان سکے اس لئے خدا نے مرزا صاحب کو بھیجا کہ نبوت کے جاری رہنے کا عقیده منوائیں۔جب لوگ یہ مان لیں گے تو پھر مصلح موعود پیدا ہو کر کہے گا کہ بہاء اللہ صاحب شریعت ہے اسے مانو۔