انوارالعلوم (جلد 8) — Page 414
۴۱۴ دوره یورپ ثبوت کے لئے کتنی ہی قاطع شہادت کیوں نہ ہو کبھی اطمینان نہیں ہوتا اس لئے خدا نے ایسے لوگوں کی تسلی اور یقین کے لئے بھی ذرائع مہیا کئے ہیں ان میں سے ایک جیسا کہ مسیح موعود نے بیان فرمایا یہ ہے کہ ایسا شخص مسلسل چالیس روز تک دل کو تعصب سے بالکل خالی کر کے ہر روز سونے سے قبل خدا سے مندرجہ زیل دعا کرے۔"اے خدا یہ شخص جو دعویٰ کرتا ہے کہ خدا نے مجھے اس غرض کے لئے بھیجا ہے کہ دین ِالہٰی اسلام کو اس کی صحیح شکل میں پیش کر کے اور اس طرح لوگوں کو اس کے قبول کرنے کی ترغیب دلا کر دنیا میں اس کو برقرار کروں اگر واقعی تیرا بھیجا ہوا ہے تب میں جو بوجہ حالات سے لاعلمی کے اس کی صداقت کے متعلق صحیح فیصلہ کرنے کے ناقابل ہوں تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ اسے برحق! جو تمام صداقتوں کا سرچشمہ ہے اور اے ہادی! جو تمام ہدایتوں کا منبع ہے اور اے رحیم ! جو اپنی مخلوق کو تکلیف میں دیکھنا گوارا نہیں کر سکتا تو مجھ پر اس کی صداقت روشن کردے۔‘‘ ۱۷؎ اگر ایک شخص چالیس دن اس طرح سچے دل سے دعا کرتا رہے توخد ایقیناً اس چالیس روز کے عرصہ کے اندر اندر اس کا دل صداقت کے لئے کھول دے گا اور مسیح موعود کی صداقت کے لئے اسے کوئی نشان دکھادے گا۔چونکہ یہ اطمینان کرنے کا ایک ایسا طریقہ ہے جو کہ تمام تر خدا کے ہاتھ میں ہے اور دعا کے جواب میں ہے یقیناً ایک تلاش کرنے والے کے دل کو کامل یقین اور ایمان کی طرف لے جائے گا۔میں مغرب میں سچ سے پیار کرنے والوں سے امید کرتا ہوں کہ وہ اس نہایت ہی ضروری امر کے فیصلہ کرنے کے لئے اس معقول اور درست طریق کو خوشی سے اختیار کریں گے کیونکہ ایسی صورت میں اس شبہ کی گنجائش نہیں ہو سکتی کہ ایک شخص کا دل دوسرے آدمی کی خوش کلامی یا ہوشیاری سے مرعوب ہو گیا کیونکہ یہ ایک اپیل ہے جو مخلوق کی طرف سے اپنے خالق کی خدمت میں کی گئی ہے اور اس کا فیصلہ اس الرحم الراحمين منصف کے ہاتھ میں ہے جس کے فیصلہ کے بعد اور کوئی زیادہ سچا اور زیادہ معقول فیصلہ نہیں۔مختلف مذاہب کے قائم مقاموں (لیڈروں )کے لئے آپ نے ایک اور طریقہ پیش کیا وہ یہ کہ بیس آدمی جومہلک امراض میں مبتلاء ہوں تجریہ کے لئے چن لئے جائیں پھروہ قرعہ اندازی سے آپ کے اور کسی ایک مذہب کے وکیل کے درمیان تقسیم کر دیئے جائیں اور پھر وہ دونوں اپنے