انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 397

۳۹۷ دوره یورپ نہیں لے جاسکتی کیونکہ اگر معمولی القاء ہی وحی ہے تو ہر ایک آدمی اپنے آپ کو ملہم خیال کر سکتا ہے چنانچہ مفہومِ وحی میں اس غلطی کے بعد واقع میں کئی نظیریں ایسی ملتی ہیں۔وحی کی اس تشریح سے مسیح موعود نے دنیا پر ایک بہت بڑا احسان کیا کیونکہ آپ نے اس طریقہ سے مذہب پر اس خطرناک حملے کو روکنے کے لئے ذریعہ مہیا کردیا جو تمام الہامی کتب کی سند کو ان غلط معنوں کی وجہ سے برباد کر رہا تھا کہ وحی صرف القاء ہے اور خدا کی کامل شناخت کے حصول کے لئے ایسی یقینی امید پیدا کردی جو راہ میں بھٹکے پھرنے والوں کے قدموں کو لازما ًتیز کردیگی۔ٍ ایک اور ضروری سوال جو خدا کی ذات کے ساتھ تعلق ہے اور جو اس رشتہ پر جو بندے اور خدا کے درمیان اور جو بندے اور بندے کے درمیان ہے یکساں اثر رکھتا ہے یہ ہے کہ کونسی قومیں وحی حاصل کرنے والی رہی ہیں اور کن اصولوں پر خدا نے انہیں وحی لینے کے لئے چُنا۔اس سوال کے عمل کے بغیر وہ اصلاح جو مسیح موعود نے الوہیت کی حقیقت کے متعلق دوسرے سوالوں کو حل کر کے کی ہے ادھوری رہتی ہے۔اس سوال کے متعلق آپ نے بتایا کہ جب کہ خدا کل کائنات کا آقا ہے تو اس کی ہدایت کسی خاص قوم میں محدود نہیں ہو سکتی۔جب وہ تمام بنی نوع انسان کامالک ہے اور ان تمام کو اس نے سوچنے کے لئے فہم بخشے ہیں تو ان میں سے کسی کو بھی وہ اپنی ہدایت سے محروم نہیں رکھ سکتا جیسا کہ قرآن پاک فرماتا ہے ان من امة الا خلا فیھا نذیر کہ کوئی قوم نہیں جس کے اندر نذیر نہ آیا ہو۔خدا نے اپنے رسول تمام اقوام میں بھیجے اور ہر زمانے میں بھی اور جس طرح کہ سورج تمام دنیا کو روشن کردیا ہے وحی کے نور سے بھی زمین کے تاریک سے تاریک کونے کو روشن رکھا۔اس اصول کے ماتحت آپ نے ہندوستان کے انبیاء کرشن، رام چندر، بدھ اور فارسی نبی زرتشت کی صداقت ثابت کی اور ان کے دعاوی کے انکار کو خدا کی عالمگیر ربوبیت کے انکار کے مترادف قرار دیا۔آپ نے قرآن کریم سے یہ ثابت کیا کہ نہ صرف وہ آدمی خدا کے نیک بندے تھے جن کی خدمات جو انہوں نے بنی آدم کی کیں تاریخ میں درج ہیں بلکہ خدا کی صفات اور اس کا کلام اس امرکی شہادت دیتا ہے کہ ہر ایک قوم میں خواہ اس کی روایت محفوظ ہوں یا نہ ہوں نبی آئے اور یہ کہ انبیاء کی معرفت ہد ایت کاملنا انسانی حق ہے جو خدا کبھی بھی نظرانداز نہیں کر سکتا۔