انوارالعلوم (جلد 8) — Page 7
۷ مد نظر رکھ کر اپنی ہر ایک چیز میری ہی سمجھتے ہیں۔لیکن ہر جماعت میں ایک حصہ کمزور لوگوں کا بھی ہوتا ہے جو شیطانی تحریکوں کو قبول کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔پس ان لوگوں کے دلوں کے وسوسوں کا دور کرنا بھی میرا فرض ہے اور اسی کو مد نظر رکھ کر میں نے یہ باتیں لکھی ہیں۔اے عزیزو!فتح کا زمانہ آگیا۔کامیابی دروازے پر ہے خوشی کی گھڑیاں ناچتی ہوئی چلی آتی ہیں اور تمہارے قدموں کے چومنے کی مشتاق ہیں۔وہ دن قریب ہیں جب فوج در فوج لوگ اسلام اور احمدیت کو قبول کریں گے۔پس اس زمانہ کی مناسبت سے اپنی قربانیوں کو بھی بڑهادو کے لوگ روز مرہ کی نسبت شادیوں کے موقع پر زیادہ خرچ کرتے ہیں۔اب تک تمہاری قربانیاں ایسی تھیں جیسے کہ انسان روز مرہ کے خرچ برداشت کرتا ہے۔اب عید کا دن آنے والا ہے اس کا باریک ہلال مجھے نظر آرہا ہے۔اے کاش ہم جس طرح رمضان میں ثابت قدم رہے اس سے بڑھ کر عید کے دن ہمیں صراط مستقیم پر رہنے کی توفیق ملے۔ہم مسلمان ہیں اور ہمارے دن چاند کے حساب پر ہیں۔پس دن خواہ عید کاہی ہو اس سے پہلے رات آنی ضروری ہے۔میں نے کہا ہے کہ عید کا چاند نظر آرہا ہے۔مگر اے عزیزو! پھر اس کے کہ دن چڑھے عید کی رات کا ختم ہونا ضروری ہے۔پس دعا کرو کہ اس رات کے بعد دن کا دیکھنا ہمیں نصیب ہو اور یہ رات ہمارے لئے بابرکت ثابت ہو۔یہ فتح کی ابتدا ئی گھڑیاں سخت قربانی کی گھڑیاں ہوں گی۔مگر یہ رات ایک خالص خوشی کا دن چڑھائے گی اور یہ اند ھیرا ایک روشن سورج پیدا کرے گا اور ہر ایک جو اسلام کی عظمت کا خیال لے کر اس رات میں لیٹے گا وہ اسلام کی فتح کا جھنڈالے کردن کو کھڑا ہو گیا۔مبارک وہ جو آخر تک مستقل رہیں اور کامیابی کا منہ دیکھیں۔اور خدا کرے کہ سب احمدی ایسے ہی ثابت ہوں۔واخر دعونا ان الحمد لله رب العلمين - خاکسار مرزا محمود احمد خليفۃ المسیح الثانی (الفضل ۱۹ فروری ۱۹۲۴ء) +