انوارالعلوم (جلد 8) — Page 384
۳۸۴ دوره یورپ میں ٹہلنا شروع کر دیا اور ایسی گھبراہٹ ان کی حرکات سے ظاہر ہوئی کہ سب لوگوں نے یہ سمجھا کہ ان کو جنون ہو گیا ہے۔سب لوگ قطاریں باندھ کر کھڑے ہو گئے ہیں اور وہ جلد جلد ادھر سے ادھر ٹہلتے ہیں اتنے میں لارڈ کرزن ۳؎ صاحب نے آگے بڑھ کر ان کے کان میں کچھ کہا اور وہ ٹھہر گئے اور آہستہ سے لارڈ کرزن صاحب کو کچھ کہا۔انہوں نے باقی لوگوں سے جو ان کے گردتھے وہی بات کہی اور سب لوگ دوڑکر ہال کے دروازے کی طرف چلے گئے اور باہر سڑک کی مشرقی جانب جھانکنا شروع کیا۔ان کے اس طریق پر مجھے اور بھی حیرت ہوئی۔قاضی عبد اللہ صاحب میرے پاس کھڑے ہیں میں نے ان سے پوچھا کہ انہوں نے کیا کہا ہے اور یہ لوگ دروازے کی طرف کیوں دوڑے اور کیا دیکھتے ہیں؟ قاضی صاحب نے مجھے جواب دیا کہ مسٹر لائڈ جارج نے لارڈ کرزن سے یہ کہا ہے کہ میں پاگل نہیں ہوں کہ میں اس وجہ سے ٹہل رہا ہوں کہ مجھے ابھی خبر آئی ہے کہ مرزا محموداحمدؑ امام جماعت احمدیہ کی فوجیں عیسائی لشکر کو دباتی چلی آتی ہیں اور مسیحی لشکر شکست کھا رہا ہے اور وہ ہٹتے ہٹتے اس جگہ کے قریب آگیا ہے اور یہ لوگ اس بات کو سن کر دروازے کی طرف اس لئے دوڑے تھے کہ تادیکھیں کہ لڑائی کا کیا حال ہے۔جب میں نے یہ بات ان سے سنی تو میں دل میں کہتا ہوں کہ ان کو اس قدر گھبراہٹ ہے اگر ان کو معلوم ہو کہ میں خود ان کے اندر موجود ہوں تو یہ مجھے گرفتار کرنے کی کوشش کریں گے یہ خیال کر کے میں بھی دروازے کی طرف اسی طرح بڑھا جس طرح وہ لوگ دیکھنے کے لئے گئے تھے اور وہاں سے خاموشی سے سڑک کی طرف نکل گیا۔اس پر میری آنکھ کھل گئی۔دوسری رؤیا دوسری رؤیا اسی سال کی ہے۔مگر ولایت جانے کی تحریک سے دو تین ماہ پہلے کی ہے۔یہ خواب بھی میں نے اسی دن دوستوں کو سنا دی تھی جن میں سے ایک مفتی محمد صادق صاحب بھی ہیں۔میں نے دیکھا کہ میں انگلستان کے ساحل سمندر پر کھڑا ہوں جس طرح کہ کوئی شخص تازه وارد ہوتا ہے اور میرا لباس جنگی ہے۔میں ایک جرنیل کی حیثیت میں ہوں اور میرے پاس ایک اور شخص کھڑا ہے اس وقت میں یہ خیال کرتا ہوں کہ کوئی جنگ ہوئی ہے اور اس میں مجھے فتح ہوئی ہے اور میں اس کے بعد میدان کو ایک مدبر جرنیل کی طرح اس نظر سے دیکھ رہا ہوں کہ اب مجھے اس فتح سے زیادہ سے زیادہ فائدہ کس طرح حاصل کرنا چاہئے۔ایک لکڑی کا موٹا شہتیر زمین پر کٹا ہوا پڑا ہے ایک پاؤں میں نے اس پر رکھا ہوا ہے اور ایک پاؤں زمین پر ہے جس طرح کوئی شخص کسی دُور کی چیز کو دیکھتا ہے تو ایک پاؤں کسی اونچی چیز پر رکھ کر