انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 6

۶ وسعت دی ہو ان پر حق ہے کہ کسی موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیں۔میں امید کرتا ہوں کہ تمام جماعتوں کے امیر اور سیکرٹری اس تحریک کے پہنچتے ہی اپنے علاقہ کے احمدیوں سے پوری طرح اس تحریک میں حصہ لینے کی تحریک کریں گے اور اس امر کو دیکھیں گے کہ کوئی احمدی اس تحریک سے باہر نہیں رہتا کیونکہ یہ رقم تبھی پوری ہو سکے گی جب کہ پوری طرح تجویز پر عمل کیا جائے۔اور چاہئے کہ سوائے زمینداروں کے جن کے لئے فصلوں کا انتظار کیا جاسکتا ہے باقی سب دوست تین ماہ کے اندر اس تحریک کے مطابق اپنے حصہ کو ادا کر کے ثواب دارین حاصل کریں اور ان مشکلات کے دور کرنے میں حصہ لیں جو دوسری صورت میں پیدا ہو سکتی ہیں۔اے عزیزو! ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کوئی کہہ بیٹھے کہ چنده! چنده!! ہروقت چنده؟ ہم کہاں تک چندے دیتے جائیں کیونکہ یہ چندہ میں اپنے نفس کے لئے تم سے نہیں مانگتا بلکہ میں یہ چندہ خود تمہارے لئے ہی مانگتا ہوں تاکہ یہ رقم تمہارے لئے خدائے خزانہ میں جمع رہے اور بڑھے اور بڑھے اور تمہاری اس زندگی میں کام آئے جو نہ ختم ہونے والی ہے اور جس زندگی میں کہ صرف اسی دنیا کے اعمال اور اس دنیا میں جمع کیا ہوا روپیہ کام آتا ہے۔دشمن اعتراض کیا کرتے ہیں کہ مسیح موعود علیہ السلام نے لوگوں سے روپیہ بٹورنے کے لئے یہ سب انتظام کیا ہے اور یہ کہ انہوں نے اپنی اولاد کے لئے ایک جائداد چھوڑی ہے مگر آپ لوگ جانتے ہیں کہ نہ مسیح موعودؑ کسی کے روپیہ کے محتاج تھے اور نہ اللہ کے اموال آپ کے خلفاء کی یا آپ کی اولاد کی جائداد بنے۔وہ خدا کے لئے جمع کئے جاتے ہیں اور خدا کے لئے خرچ ہوتے ہیں۔کون ہے جو کہہ سکے کہ میں نے کبھی ایک پیسہ بھی اپنے لئے اس سے طلب کیا ہے کہ سلسلہ کے اموال میں سے ایک حبّہ بھی کبھی میں نے اپنا قرار دیا اور اسے اپنے پر خرچ کیا۔میں تو اس قدر محتاط ہوں کہ بعض لوگ اگر مجھ سے دریافت کریں کہ ہم آپ کے لئے کوئی تحفہ بھیجنا چاہتے ہیں کیا چیز بھیجیں؟ تو میں ان کو کیا جواب ہی نہیں دیتا یا یہ لکھ دیتا ہوں کہ میں پیدائش سے لے کر آج تک سوال کرنے سے بچا رہا ہوں اور اب بھی سوال کے لئے خدا کے فضل سے تیار نہیں ہوں۔میں جانتا ہوں کہ جماعت کے مخلصين کو اور بھی زیادہ میری اس تحریر کو پڑھ کر صدمہ اور افسوس ہو گا کیونکہ گو میں ان سے کچھ طلب نہیں کرتا اور ان کے مال انہیں کے فائدے کے لئے خرچ کرتا ہوں مگر وہ اپنے اخلاص کی وجہ سے اپنے اقرار بیعت کو