انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 373

۳۷۳ تین ہزار روپے پہلے جمع کر کے میں نے اخبار کے نکالنے کا ارادہ کیا تھا۔ہر پرچہ جو نکلتا مخالفت کی ایک لہر پیدا کر دیا۔اور اس کے خلاف جس قدر ممکن ہو سکتا جھوٹ اور فریب سے کام لیا جاتا۔اس کی تفصیل کی ضرورت نہیں۔ہاں یہ کہنا بے جانہ ہو گا کہ اس وقت یہ امر معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود کا قائم کرده ایمان کیا مضبوط تھا۔جماعت کی توجہ الفضل کی طرف باوجود مخالفت کے جماعت کی توجہ آہستہ آہستہ ’’الفضل ‘‘کی طرف پھرنی شروع ہو گئی۔اور تھوڑے ہی دنوں میں باوجود " پیغام‘‘ کی مخالفت اور ”بدر“ کی پیغام کے حق میں غیر جانبدارانہ ہمد ردی کے’’ الفضل‘‘ کی خریداری بڑھنےلگی۔’’الحکم ‘‘ان دنوں اول تو نکلتا ہی کم تھا دوسرے اس وقت اس کو صاحبانِ پیغام نے اس قدر بدنام کر دیا ہوا تھا کہ اس کی تائید مخالفوں کی مخالفت سے زیادہ خطرناک تھی۔اور ہمارے شیخ صاحب باوجود ایک عقلص دل رکھنے کے گورنمنٹ کے ایجنٹ فری میسن خفیہ سازشوں کے بانی، دشمنان سلسلہ کے ہتھیار اور نہ معلوم کن کن ناموں سے مشہور تھے۔ایک نوجوان الفضل کا دفتر اس وقت نواب محمد علی خان صاحب کے مکان میں تھا۔اور وہیں مرزا محمد اشرف صاحب جواب محاسب صدر انجمن احمدیہ میں رہا کرتے تھے۔ان کے پاس اس وقت ان کے وطن کا ایک نوجوان رہتا تھا۔جس کی مونچھیں اور ڈارھی ابھی نہ نکلی تھیں۔یہ نوجوان ایک اور نوجوان سے مل کر مین دفتر " الفضل" کے سامنے بیٹھ کر " پیغام صلح ‘‘کی تائید اور " الفضل" کی غلطیوں پر پڑے زورسے بحثیں کیا کرتا تھا۔ہمارے قاضی صاحب کو اس کی یہ حرکت بہت ناپسند تھی۔اور وہ مجھے بعض دفعہ کہتے کہ "الفضل" کے دفتر میں ایسی گفتگو سخت مُضر ہے۔مگر میرے دل میں ان نوعمر نوجوان کی یہ بات دو متضاد جذبات پیدا کیا کرتی تھی۔میں اس کے ناواقفی کے اعتراضوں کو ناپسند بھی کرتا اور اس کے فعل کو کہ عین دفتر "الفضل" کے دروازہ کے سامنے بیٹھ کر وہ اس بحث کو چھیڑتا تھا۔استعجاب کی نگاہ سے بھی دیکھتا تھا۔یہ نوجوان بعد میں قادیان سے چلایا گیا۔اور اس نے’’ پیغام صلح ‘‘ میں ہمارے مخالف بعض مضامین بھی لکھے۔اس وقت اسے یہ معلوم نہ تھا کہ غیب نے اس کے لئے کیا مقدر رکھا ہوا ہے۔قدرت اس کو کسی اور راہ پر چلانا چاہتی تھی۔اور وہ قدرت کے ہاتھوں سے بچ کر کہاں جا سکتا تھا۔آخر گرفتار ہوا اور میری بیعت کی۔اور کچھ دنوں کے بعد اسی دفتر میں جن کے دروازہ پر بیٹھ کر وہ