انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 334

۳۳۴ قرآن کریم نے بتائے ہیں وہ بھی ان ساتوں حواس سے تعلق رکھتے ہیں ہر حسّ کو لذت حاصل ہو گی کیونکہ وہ تندرست ہو گی کیا تم دیکھتے نہیں کہ سورج کی خوشگوار روشنی جو آنکھوں کے لئے طراوت کا موجب ہوتی ہے اور دل اس سے فرحت حاصل کرتا ہے وہ بیمار آنکھ والے کے لئے کیسی تکلیف دہ ہوتی ہے اور وہ ا س سے کس قدر دکھ اور تکلیف محسوس کرتا ہے حتیٰ کہ اگر اس کو جلد نہ روکا جائے تو قریب ہوتا ہے کہ بیمار کی آنکھ ہی ماری جائے یا وہ بیہوش ہو جائے۔اسی طرح دیکھتے نہیں کہ وہ خوشگوار اور خوبصورت آواز جو طبائع کے لئے نہایت سرور بخش ہوتی ہے اس شخص کے لئے جس کے کانوں میں نقص ہو یا سر درد ہو کس قدر تکلیف دہ ثابت ہوتی ہے وہی آواز جو بعض دوسروں کو نئی زندگی بخشتی ہے وہ ایسے لوگوں کی جان کے لئے وبال اور ناقابل برداشت ہو جاتی ہے۔پھر کیا نہیں دیکھتے کہ انہی حواس کے نقص کی وجہ سے وہ ناک جو خوشبو سونگھنے کے لئے مقرر کیا گیا ہے جب اس کی حس ذکی ہو جاتی ہے ہر خوشبو کو سونگھ کر تکلیف اٹھاتا ہے اور بعض لوگوں میں تو یہ نقص اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ وہ عطر کی خوشبو سونگتے ہی بیمار ہو جاتے ہیں اور ان کے سر میں درد شروع ہو جاتا ہے حالانکہ خوشبو ایک اعلیٰ درجہ کی نعمت ہے۔پھر کیا نہیں دیکھتے کہ منہ کا مزہ جو انسان کے لئے ایک بہت بڑا انعام ہے جب خراب ہو جاتا ہے تو میٹھے کو کڑوا اور نمکین کو سخت شور محسوس کر کے انسان کے لئے کس قدر تکلیف کا موجب ہو جاتا ہے اور ہر چیز کی لذت کو خراب کر دیتا ہے بلکہ ایک عذاب بنا دیتا ہے۔پھر کیا نہیں دیکھتے کہ جب لمس کی حس میں فرق پڑ جاتا ہے تو نرم گدے جو دوسروں کے لئے آرام کا باعث ہوتے ہیں ایسے شخص کو پتھر سے زیادہ سخت اور کانٹوں کے بچھونے معلوم ہوتے ہیں اور آدمی ان پر پڑا لوٹتا ہے۔پھر کیا نہیں دیکھتے کہ گرمی سردی کی حسّوں میں جب نقص پیدا ہو جاتا ہے تو وہی سردی جو دوسرے لوگوں کے لئے راحت دے رہی ہوتی ہے ایسے شخص کے لئے آگ بن جاتی ہے اور وہ اپنے اوپر سے کپڑے اتار اتار کر پھینک رہا ہوتا ہے اور یہی شکایت کرتا ہے کہ میں جل گیا حالانکہ پاس کے لوگ سردی محسوس کرتے ہیں۔پھر کیا نہیں دیکھتے کہ گرمی کے موسم میں جس کی گرمی کی حِس کو کسی بیماری کی وجہ سے صدمہ پہنچ جاتا ہے وہ سردی کے مارے کانپنے لگتا ہے اور کپڑے اوڑھتا ہے حالانکہ دوسرے لوگ برف کا استعمال کر رہے ہوتے ہیں اور پنکھے جھلتے ہیں۔اسی طرح کیا نہیں دیکھتے کہ جن لوگوں کی حس عاملہ خراب ہو جاتی ہے ان کو وہی چلنا پھرنا جو دوسروں کے اندر نشاط پیدا کرتا ہے عذاب معلوم ہوتا ہے اور دو قدم چلنے سے پاؤں پھول جاتے ہیں۔غرض یہ سب