انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 310

۳۱۰ اس کے دو خطرناک اثر ملکوں کے امن کے خلاف پڑ رہے ہیں۔ایک اس کے ذریعہ سے دولت محدود ہاتھوں میں جمع ہو رہی ہے۔دوسرے اس کی وجہ سے جنگیں آسان ہو گئی ہیں۔میں نہیں سمجھتا کہ دنیا کا کوئی انسان بھی اس جنگ عظیم کی جو پچھلے دنوں ہوئی ہے جرأت کر سکتا تھا اگر سود کا دروازہ اس کے لئے کھلا نہ ہوتا؟ جس قدر روپیہ اس جنگ پر خرچ ہوا ہے مختلف ممالک اس روپے کے خرچ کرنے کے لئے کبھی تیار نہ ہوتے اگر اس کا بوجھ براہ راست ملک کی آبادی پر پڑ جاتا۔اس قدرعرصہ تک جنگ محض سود کی وجہ سے جاری رہیں ورنہ بہت سی سلطنتیں تھیں جو اس عرصہ سے بہت پیشترجس میں پچھلی جنگ جاری رہی جنگ کو چھو ڑبیٹھتیں کیونکہ ان کے خزانے ختم ہو جائے اور ان کے ملک میں بغاوت کی ایک عام لہر پیدا ہو جاتی۔یہ سودہی تھا جس کی وجہ سے اس وقت تک لوگوں کو بوجھ محسوس نہیں ہوا لیکن اب کمریں اس کے بوجھ کے نیچے جھکی جارہی ہیں اور غالبا ًکئی نسلیں اس قرضہ کے اتارنے میں مشغول چلی جائیں گی۔اگر سود نہ لیا جا تاتو جنگ کا نتیجہ وہی ہوتا جو اب ہوا ہے یعنی وہی اقوام جیت جاتی جواب جیتی ہیں۔مگر فرانس اس قد ر تباہ نہ ہوتا، جرمنی اس طرح برباد نہ ہوتا، آسٹریا اس طرح ہلاک نہ ہو تا، انگلستان پر یہ بار نہ پڑتا ،اول تو جنگ چھیڑنے ہی کی حکومتوں کو جرأت نہ ہوتی اور اگر جنگ چھڑ بھی جاتی تو ایک سال کے اندر جو ش مدھم ہو کر کبھی کی صلح ہوچکی ہوتی اور آج دنیا شاہراہ ترقی پر چل رہی ہوتی۔حکومتیں آجکل آلاتِ جنگ کے کم کرنے پر زور دے رہی ہیں۔یہ بھی ایک اچھی بات ہے مگر آلات تو ارادے کے ساتھ فور اًہی بن جاتے ہیں۔جس چیز کے توڑنے کی ضرورت ہے وہ سود ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ سودجنگ کے پید اکرنے کا موجب ہے اور آج ہم اپنی آنکھوں سے یہ نظارہ دیکھ رہے ہیں۔پس جنگیں خواہ اند رونی ہوں خو او بیرونی تبھی بند ہوں گی اور ملکوں میں امن تبھی قائم ہو گا جب سود کے رواج کو تمدن کے دائرہ سے باہر نکال دیا جائے گا۔بے شک تب دودھ کی نہریں چلیں گی اور امیر غریب پر ظلم نہیں کر سکے گا اور بادشاہتیں بادشاہتوں پر چڑھائی کرنے سے ڈریں گی اور تبھی جنگ کی طرف مائل ہوں گی جب ان کو یقین ہو گیا کہ ان کے ملک کی عزت خطرہ میں ہے اور یہ کہ لوگ اس کے بچانے کے لئے ہر اک قربانی کے لئے تیار ہیں۔حاکم اپنا دل خوش کرنے کے لئے کبھی جنگ نہیں کر سکیں گے۔ایک نقص اور ہے جس کی وجہ سے بعض لوگوں کے ہاتھ میں مال زیادہ جمع ہوتا ہے اور وہ