انوارالعلوم (جلد 8) — Page 302
۳۰۲ ﷺنے حکم فرمایا کہ اسے آزاد کر دو۔اسی طرح ایک اور صحابی فرماتے ہیں کہ میں ایک دفعہ ایک غلام کو مارنے لگا مجھے اپنے کچھ سے ایک آواز آئی جسے میں پہچان نہ سکا اتنے میں میں نے دیکھا کہ رسول کریم ﷺ چلے آرہے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اے ابو مسعود! جس قدر مجھ کو اس غلام پر مقدرت حاصل ہے اس سے کہیں زیادہ تجھ پر خدا کو مقدرت حاصل ہے وہ کہتے ہیں ڈر کے مارے میرے ہاتھ سے کو ڑا جاپڑا اور میں نے کہا یا رسول الشاہ غلام خدا کے لئے آزاد ہے ؟ آپ نے فرمایا اگر تو اسے آزاد نہ کرتا تو آگ تیرا منہ جھلستی اسی طرح رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص اپنے نوکر سے وہ کام نہ لے جو وہ کر نہیں سکتا اور اگر زیادہ کام ہو تو خود ساتھ لگ کر کام کرائے۔25۔اسی طرح آپؐ فرماتے ہیں کہ اگر کسی کا نوکر کھانا پا کر اس کے سامنے رکھے تو اصل حق تو یہ ہے کہ وہ اسے ساتھ بٹھا کر کھلائے اگر ایسا نہ کر سکے تو کم سے کم اس میں سے اس کو حصہ دیدے کیونکہ ان کی تکلیف تو اسی نے اٹھائی ہے۔۴۵۔مزدوری کے متعلق آپ فرماتے ہیں کہ مزدور کا پسینہ سوکھنے سے پہلے اس کی مزدوری اس کو ادا کردی جائے ۲۵۲؎۔اور اس کے حق کے متعلق فرماتے ہیں کہ جو شخص مزدور کو اس کا حق ادا نہیں کر تا قیامت کے دن میں اس کی طرف سے جھگڑوں گا۔۲۵۳۔جس سے یہ نتیجہ نکلتاہے کہ اگر کوئی ملک مزدور کی مزدوری نہ دے تو حکومت کا فرض ہے کہ اس کو دلوائے۔اسی طرح ایک حق مزدور کا شریعت نے یہ مقرر کیا ہے کہ اگر اس کو مزدوری کافی نہیں دی جاتی تو وہ حکومت کے ذریعہ سے اپنی دادرسی کرائے اور اگر مزدور سیاسی یا تمدنی حالات کی وجہ سے مجبور ہوں کہ اس آقا کے ساتھ کام کریں تو حکومت کا فرض ہو گا کہ دونوں فریق کا حال سن کر مناسب فیصلہ کرے۔امراء اور غرباء اور حکام کے تعلقات اور اختیارات پر ایک اجمالی نظر یہ ایک اہم سوال ہے کہ مختلف لوگوں کے حقوق کا توازن کس طرح قائم رکھا جائے ؟ اور