انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 298

۲۹۸ معتبر ہیں جھوٹے اور اوباش نہیں ہیں۔قاضیوں کے متعلق حکم دیا کہ وہ لائق اور کام کے قابل ہوں قاضیوں کے فیصلہ کے متعلق یہ حکم دیا کہ گو قاضی غلطی کر سکتا ہے مگر چونکہ فی ما بین اختلافات کا فیصلہ انسانوں نے ہی کرنا ہے جو غلطی سے پاک نہیں ہیں اور چونکہ اگر جھگڑا کسی جگہ پر جا کر ختم نہ ہو تو فساد بڑھتا ہے اس لئے قاضیوں کے فیصلہ کو سب فریق کو قبول کرنا ہو گا خواہ اس کو غلط مانیں یا صحیح۔اور جو شخص اس امر میں چون و چرا کرے اور قضاء کے فیصلہ کی ہتک کرے وہ ہرگز ایک مسلم شہری نہ سمجھا جائے کیونکہ وہ نظام سلسلہ کو درہم برہم کرتا ہے۔کمزوروں اور ناسمجھوں کو اپنے حقوق کے سمجھنے میں مدد دینے کے لئے مفتیوں کا ایک سلسلہ جاری کیا جو قانون کے واقف ہوں مگر شرط یہ رکھی کہ یہ مفتی صرف حکومت ہی مقرر کر سکتی ہے اپنے طور پر کوئی شخص مفتی نہیں بن سکتا۔ان فیصلوں کا اجراء حکومت کے اختیار میں رکھا ہے اور حکم دیا ہے کہ ان کے اجراء میں رحم یا لحاظ سے کام نہ لیا جائے خواہ کوئی بڑا آدمی ہو خواہ چھوٹا۔حتیٰ کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر میری بیٹی چوری کرے تو میں اس کو بھی سزا دینے سے دریغ نہیں کروں گا۔حضرت عمرؓ نے اپنے لڑکے کو ایک جرم میں خود اپنے ہاتھ سے کوڑے لگائے۔ایک فرض حکومت کا یہ مقرر کیا گیا ہے کہ ملک کی عزت اورآزادی کی حفاظت کرے قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے مسلمانو! سرحدوں پر ہمیشہ مضبوط چوکیاں بنائے رکھو۔جو دوسری حکومتوں کے مقابلہ میں ملک کی حفاظت کریں اور امن اور جنگ میں برابر استقلال سے اس امر کا تعہد کرو۔ایک فرض حکومت کا حفظان صحت کا خیال ہے چنانچہ راستوں اور پبلک جگہوں وغیرہ کی صفائی کے متعلق قرآن کریم میں اللہ تعالیٰٰ رسول کریم ﷺ کو حکم دیتا ہے وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ (المدثر:6) علاوہ قلبی اور جسمانی صفائی کا خیال رکھنے کے گندگی اور غلاظت کو عام طور پر دور کر یعنی اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ پبلک صفائی کا خیال رکھے۔رسول کریم ﷺ ہمیشہ صحابہ کو مقرر فرماتے تھے کہ وہ آوارہ کتوں کو مار دیں تا ان کے جنون کی وجہ سے لوگوں کو نقصان نہ پہنچے۔ایک فرض اسلامی حکومت کا یہ ہے کہ وہ ملک کی تعلیم کا انتظام کرے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں رسول کریم ﷺ کے فرض میں سے ایک فرض تعلیم مقرر فرمایا ہے فرماتا ہے