انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 296

۲۹۶ و مسئول عن رعیتہٖ تم میں سے ہر ایک مثل گڈریے کے ہے اور ان لوگوں یا چیزوں کے متعلق پورا ذمہ دار ہے جو اس کے سپرد کئے گئےہیں بادشاہ کے سپرد ایک جماعت کی گئی ہے اور وہ ان کا ہر طرح ذمہ دار اور جوابدہ ہے اور ہر مرد کے سپرد ایک خاندان ہے اور وہ اس خاندان کا ذمہ دار اور جوابدہ ہے اور عور ت کے سپرد اولاد کی تربیت اور گھر کی حفاظت ہے اور وہ اس کی ذمہ دار اور جوابدہ ہے اور نوکر کے سپرد اس کے آقا کی جائداد اور مال ہے اور وہ اس کا ذمہ دار اور جوابدہ ہے۔اس حکم سے ظاہر ہے کہ اسلام نے بادشاہ کو مثل گڈریے کے قرار دیا ہے جس کے سپرد مالک ایک ریوڑ کرتا ہے پس جس طرح اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اسے بکھرنے اور پراگندہ نہ ہونے دے، بھیڑیے کے حملہ سے بچائے، اس کی صحت کا خیال رکھے، خوراک کا خیال رکھے، مکان کا خیال رکھے، غرض ہر قسم کی ضرورتوں کا خیال رکھے اسی طرح حکومت اسلامیہ کا فرض ہے کہ وہ اپنے علاقہ کے لوگوں کو تفرقہ اور فساد اور ایک دوسرے کے خلاف ظلم اور بیرونی حملوں سے بچائے اور ان کی تمام ضروریات کا فکر رکھے خواہ وہ علوم کے متعلق ہوں، خواہ تربیت کے، خواہ خوراک کے، خواہ رہائش کے، خواہ صحت کے، خواہ اور کسی قسم کی ہوں۔یہ تعلیم تو عام ہے اس کے علاوہ تفصیلی فرائض یہ ہیں کہ اسلامی حکومت اس امر کی ذمہ وار رکھی گئی ہے کہ وہ ہر ایک شخص کے لئے خوراک لباس اور مکان مہیا کرے۔یہ ادنیٰ سے ادنیٰ ضروریات ہیں جن کا پورا کرنا حکومت کے ذمہ ہے کیونکہ اس کے بغیر وہ چیز ہی جس کی حفاظت اس کے سپرد کی گئی ہے زندہ نہیں رہ سکتی۔مکان اور خوراک کے بغیر جسمانی زندگی محال ہے اور لباس کے بغیر اخلاقی اور تمدنی زندگی محال ہے۔اصولی احکام جن کو میں پہلے بیان کر چکا ہوں ان کا جو مفہوم مسلمانوں نے سمجھا اور جس طرح ان پر تفصیلی ضروریات کے مطابق عمل کیا وہ میرے نزدیک مثالوں سے اچھی طرح سمجھ میں آ جائے گا۔میں نے بتایا ہے کہ انسانی ضروریات کا ان لوگوں کے لئے مہیا کرنا جو ان کو مہیا نہیں کر سکتے اسلامی حکومت کا فرض ہے اس کے متعلق حضرت عمر کا ایک واقعہ نہایت ہی مؤثر اور کاشفِ حقیقت ہے۔ایک دفعہ حضرت عمر خلیفہ ثانی باہر تجسس کر رہے تھے کہ کسی مسلمان کو کوئی تکلیف تو نہیں مدینہ دار الخلافہ سے تین میل کے فاصلہ پر ایک گاؤں مرار نامی ہے وہاں دیکھا کہ ایک طرف