انوارالعلوم (جلد 8) — Page 244
۲۴۴ تیسرا درجہ نیکیوں کا ایتایٔ ذی القربیٰ ہے یعنی ایسے رنگ میں دنیا سے معاملہ کرے کہ اسے یہ بالکل خیال نہ رہے کہ یہ لوگ مجھ سے کوئی نیک معاملہ کریں گے۔جس طرح ماں اپنے بچہ سے یا باپ یا بہائی اپنے بچہ یا بہائی سے سلوک کرتے ہیں کہ وہ اسے ایک طبعی فرض سمجھتے ہیں۔یا بہائی سے اس امر کی امید نہیں رکھتے کہ یہ ہمارے سلوک کا کوئی بدلہ دے گا اگر ماں باپ ساٹھ ستر سال کے ہوں اور بچہ دو تین سال کا ہو تو بھی وہ اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ خدمت کرتے جس طرح کہ اگر وہ جوان ہوتے تو کرتے حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ بچہ ہماری خدمت نہیں کر سکتا۔کیونکہ اس کے جوان اور کام کرنے کے قابل ہونے تک ہم مر چکے ہوں گے اور یہ ان کا فعل صرف اس وجہ سے ہوتا ہے کہ ان کو اس بچہ سے طبعی محبت ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ اس سلوک کو جو وہ بچہ سے کرتے ہیں احسان بھی نہیں سمجھتے بلکہ اپنا فرض خیال کرتے ہیں بلکہ اگر کوئی شخص ان کے سامنے کہے کہ اس بچہ پر اس قدر احسان کرتے ہو؟ تو شاید وہ حیران ہو جائیں کہ احسان کیسا؟ ہم تو اپنے چہ کو پالتے ہیں تو یہ حالت جو ماں باپ یا قریبی رشتہ داروں کے سلوک کی ہوتی ہے یہ احسان سے بہت بڑھ کر ہوتی ہے۔احسان میں پھر بھی انسان کو حس ہوتی ہے کہ وہ ایک نیک کام کر رہا ہے اور قریبیوں کے سلوک میں اس امر کا بالکل خیال بھی نہیں ہوتا کہ وہ کوئی نیک کام کر رہے ہیں بلکہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سلوک سے وہ خود اپنے نفس کو آرام پہنچا رہے ہیں اور اس میں ان کو لذت محسوس ہوتی ہے۔اور یہ تیسرا درجہ نیکیوں کا سب سے اعلیٰ ہے اس درجہ میں انسان اس قدر ترقی کر جاتا ہے کہ اسے نیک اخلاق میں لذت آنے لگتی ہے اور وہ اپنے اوپر احسان سمجھتا ہے کہ مجھے لوگوں سے نیک سلوک کرنے کا موقع ملا۔جس طرح کہ وہ لوگ جس کے ہاں اولاد ہوتی ہے یہ نہیں خیال کرتے کہ انہیں ایک بوجھ پڑ گیا ہے بلکہ خوش ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰٰ کے فضل کو یاد کرتے ہیں۔ایسے لوگ گویا دنیا کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیتے ہیں اور لوگوں کی تکلیف میں تکلیف پاتے ہیں اور ان کے سکھ میں سکھ اور باوجود اس کے وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ دنیا پر انہوں نے احسان کیا بلکہ خود ممنون ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم پر فضل ہوا اور ہمیں یہ کام کرنے کا موقع ملا بلکہ خواہش کرتے رہتے ہیں کہ کاش اس سے زیادہ کا کا موقع ملتا۔جس طرح ماں باپ خواہش کرتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس زیادہ ہوتا تو بچوں کی اور بھی خاطر کرتے۔بدیوں کے تین مدارج نیکیوں کے تین مدارج کے مقابل