انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 238

۲۳۸ عیب یا دینی نقص منسوب کرے گا تو اس شخص میں جس پر وہ عیب لگایا ہے وہ عیب نہ ہو گا یعنی بطور گالی کے اس کو ذلیل کرنے کے لئے اس نے ایسی بات کہی ہو گی تو آخر گالی دینےو الے میں وہی عیب پیدا ہو جائے گا۔ایک اور نقص اس طبعی جذبہ کو حد میں نہ رکھنے سے یہ ہوتا ہے کہ انسان میں افتخار کی عادت پیدا ہو جاتی ہے۔یعنی اس خواہش کی ترقی کا اس کے دماغ پر ایسا اثر پیدا ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ اس کو اپنے عیوب اور اپنی کمزوریاں بھول جاتی ہیں اور یہ دوسروں سے اپنے آپ کو اچھا سمجھ لیتا ہے اور اس پر ناز کرتا ہے۔اس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے۔إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا (النساء:37) اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا تکبر کرنے والے اترانے والے کو۔اسی طرح ایک طبعی تقاضا بقائے نسل کا ہے اس کے متعلق اسلام نے حد بندیاں قائم کی ہیں اور فرمایا ہے کہ اس کو بھی سوچ اور سمجھ کر استعمال کرنا چاہئے چنانچہ اس کے متعلق مندرجہ ذیل احکام دئیے ہیں۔اول یہ کہ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ (الأحزاب:51) نکاح کرنے تمہارے لئے جائز ہیں۔دوم یہ کہ لَا تَقْرَبُوا الزِّنَا(بنی اسرائیل:33) زنا کے قریب نہ جاؤ۔یعنی اپنی بیویوں کے سوا دوسروں پر اپنی شہوت کو پورا نہ کرو۔کیونکہ اس سے بھی طبعی تقاضے کی اصل غرض فوت ہو جائے گی۔اب ایک یہ سوال تھا کہ جن کے لئے شادی کا انتظام نہ ہو سکتا ہو وہ کیا کریں؟ تو ان کے لئے فرمایا وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا (النور:34) چاہئے کہ وہ لوگ جن کو نکاح کا موقع میسر نہیں اپنی طاقتوں کو دبا دیں۔یعنی ایسی احتیاطوں سے جو شہوات کو کم کرتی ہیں اپنے جوشوں کو کم کریں مگر زنا نہ کریں اور نہ یہ کریں کہ اپنی طاقتوں کو بالکل ضائع کر دیں جن کے ذریعہ سے بقائے نسل کا تقاضا پورا ہوتا ہے کیونکہ اس صورت میں وہ گویا اپنی فطرت کو مسخ کریں گے اور اللہ تعالیٰ اس کو ناپسند کرتا ہے کہ فطرتی تقاضوں کو بالکل مٹا دیا جائے۔اسی طرح فرمایا وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا (الحديد:28) یعنی بعض قوموں نے رہبانیت کا طریق ایجاد کیا کہ اس طرح وہ اپنے نفس کو بالکل پاک رکھیں گے مگر ہم نے ان کو اس کام کے لئے ہرگز نہیں کہا تھا بلکہ انہوں نے اپنے پاس سے یہ مسئلہ ایجاد کر لیا تھا۔پس چونکہ یہ عہد ان کا غیر طبعی تھا اور فطرت کے تقاضوں کے خلاف تھا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ