انوارالعلوم (جلد 8) — Page 181
۱۸۱ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوتا بلکہ اسلام اس امر کو تسلیم کرتا ہے کہ الہام یا خوابیں کئی اقسام کی ہوتی ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى () مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَى () وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى () إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى () عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى(النجم:2-6) ہم اس بے جڑ بوٹی کو بطور شہادت پیش کرتے ہیں جب وہ گر جائے یعنی جس طرح وہ بوٹی جس کی جڑھ نہ ہو اگر اونچی ہو تو گر جاتی ہے اسی طرح جو شخص نبوت کے دعویٰ میں جھوٹا ہوتا ہے خواہ الہام کا بنانے والا کواہ دھوکا خوردہ ہو۔چونکہ اس کی تعلیم کی بنیاد ان روحانی علوم پر نہیں ہوتی جو کسی سلسلہ کو قائم رکھنے کے لئے ضروری ہیں اس لئے جب اس کی جماعت بڑھنے لگتی ہے تو اس میں انحطاط کے آثار پیدا ہونے لگ جاتے ہیں اور وہ بلند و بالا نہیں ہو سکتی یعنی ایک مستقل مذہب کی صورت اختیار کرنے سے پہلے اس کی تباہی شروع ہو جاتی ہے۔وہ دوسرے مذاہب کے مقابل سر اونچا کر کے نہیں کھڑا ہو سکتابلکہ ایک فرقہ کی ہی صورت میں ہوتا ہے کہ اس کا سر نیچے ہو جاتا ہے۔پھر فرماتا ہے تمہارا ساتھ گمراہ نہیں ہوا اور نہ وہ شرارت سے یہ دعویٰ کرتا ہے یعنی نہ تو اس کو دھوکا لگا ہے اور نہ یہ جانتے ہوئے کہ مجھے کوئی الہام نہیں ہوتا فریب سے الہام بناتا ہے اور نہ وہ اپنی خواہشات کے سبب سے کلام کرتا ہے یعنی ایسا نہیں ہوا کہ اس کی خواہشات نے اس کے سامنے بعض نظارے بنا کر دکھلائے ہوں اور وہ ان کو الہام سمجھ بیٹھا ہو بلکہ اس کو الہام ہوا ہے جو کسی اور طاقت نے کیا ہے مگر یہ شبہ نہ کرنا کہ شیطان کی طرف سے الہام ہوا ہے بلکہ اس کا الہام کرنےو الا وہ طاقتور خدا ہے جس کے ہاتھ میں سب کچھ ہے۔پس وہ اپنی قوت اور طاقت کے اظہار سے اس امر کو ثابت کر دےگا کہ اس کا الہام سچا ہے۔اور خدا کی طرف سے ہے اور اس کی جماعت بڑھے گی اور تنے والے درخت کی طرح اونچی ہو گی اور تمام طبائع اور علوم کے لوگ اس میں داخل ہوں گے اور زمانہ اس کو مٹا نہیں سکے گا اور وہ دوسرے کثیر التعداد مذاہب کے سامنے سر اونچا کر کے کھڑا ہو گا اور ان میں سے گِنا جائے گا۔اس آیت میں الہام کی چار قسمیں بیان فرمائی ہیں ایک وہ الہام جس کے منبع کا پتہ لگانا انسان کے لئے مشکل ہوتا ہے یعنی جو دماغ کی خرابی کانتیجہ ہوتا ہے۔دوسرے وہ الہام جو نفسانی خواہشات کا نتیجہ ہوتا ہے اور انسان سوچے تو معلوم کر سکتا ہے کہ جو خیالات میرے دل میں پیدا ہوتے تھے انہی کے مطابق میں نے نظارہ دیکھ لیا ہے تیسرے وہ الہام جو شیطانی ہوتا ہے یعنی جس میں روحانیت کے خلاف بے دینی اور بدی کی تعلیم ہوتی ہے اور چوتھے وہ الہام جو خدا تعالیٰ کی