انوارالعلوم (جلد 8) — Page 171
۱۷۱ عالیٰ فرماتا ہےذَلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ(البقرة:3) یہ کتاب وہ موعود کتاب ہے جس کا وعدہ پہلی کتب میں دیا گیا تھا اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں چنانچہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ یہ کتاب متقیوں کو راستہ دکھاتی ہے اور ان کے مقام سے ان کو اوپر لے جاتی ہے۔مطلب یہ کہ باقی مذاہب تو صرف متقی بنانے کا دعویٰ کرتے ہیں یعنی کہتے ہیں کہ جو شخص ہمارے طریق پر چلے گا وہ متقی ہو جائے گا لیکن اسلام صرف متقی بنانے کا دعویٰ نہیں کرتا بلکہ متقی سے اوپر لے جاتا ہے۔وہ صرف انسان کو وہی کام نہیں بتاتا جو اس کے ذمہ ہیں بلکہ جب وہ اسلام کے احکام پر عمل کر کے اپنی طرف سے تمام کوششیں کر چکتا ہے تو پھر اس کو اسلام اوپر لے جاتا ہے یعنی اللہ کی طرف سے بھی اس کی طرف توجہ ہوتی ہے اور محبت اور کوشش صرف ایک طرف سے نہیں رہتی بلکہ دونوں طرف سے اس کا ظہور ہونے لگتا ہے۔اسی طرح ایک جگہ فرماتا ہے۔وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا () ذَلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللَّهِ وَكَفَى بِاللَّهِ عَلِيمًا (النساء:70-71) جو لوگ اللہ اور اس کے اس رسول یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کی کامل فرمانبرداری کریں گے اللہ تعالیٰٰ ان کو چار مدارج عطا کرے گا جن کو وہ علیٰ قدر مراتب حاصل کریں گے۔جو سب سے اعلیٰ درجہ کے فرمانبردار ہوں گے ان کو نبیوں کا درجہ عطا کرے گا اور جو ان سے کم ہوں گے ان کو صدیقوں کا یعنی مقرب لوگوں کا درجہ دے گا اور جو ان سے کم ہوں گے ان کو شہداء یعنی ان لوگوں کا کہ جن کی آنکھوں سے حجاب تو اٹھ گیا ہے مگر وہ اس مقام پر نہیں پہنچے کہ اَخص دوستوں میں سے کہلا سکیں اور جو ان سے بھی کم ہوں گے ان کو نیکوں کا یعنی وہ اپنے اعمال کو تو درست کر رہے ہیں مگر ابھی ان پر خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی کھڑکی نہیں کھولی گئی۔پھر فرمایا کہ یہ لوگ بطور مصاحبت کے اچھے ہیں۔اگر انسان ان کی صحبت حاصل کرے تو وہ بھی اصلاح پا سکتا ہے یہ مدارج جن کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے وعدہ دیا گیا ہے خاص فضل کے طور پر ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے یعنی اللہ تعالیٰٰ اس امر سے آگاہ ہے کہ اسی کی پیدا کی ہوئی غیر محدود ترقی کی خواہش انسان کے اندر موجود ہے اور محبوب سے ملنے کی تڑپ ان کے اندر ودیعت کی گئی ہے پس اس خواہش کو پورا کرنا اللہ تعالیٰ کے لئے ضروری تھا۔چنانچہ اس نے اپنے فضل کا سامان مہیا کر دیا ہے اب جو بندہ چاہے اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ایک اور جگہ پر فرماتا ہے إِنَّ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا وَرَضُوا بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاطْمَأَنُّوا