انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 170

۱۷۰ میری مراد یہ نہیں کہ وہ خیال کی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور سمجھ لیتا ہے کہ وہ دیکھ رہا ہے جیسا کہ وہ لوگ جو اپنے دماغ کو خاص قسم کی مشقوں میں لگا دیتے ہیں کبھی کبھی خیال کر لیتے ہیں بلکہ میری مراد حقیقتاً دیکھنے سے ہے جس طرح کہ ہم سورج کو دیکھتے ہیں یا چاند کو دیکھتے ہیں یا اور چیزوں کو دیکھتے ہیں حتیٰ کہ ہمیں ان کے وجود میں کوئی شک نہیں رہتا۔اگر دس کروڑ آدمی بھی ہمارے پاس آ کر کہے کہ سورج حقیقتاً ہمارے سامنے نہیں آیا بلکہ ہمیں خیال ہو جاتا ہے کہ سورج سامنے ہے تو ہم یہ سمجھیں گے کہ یہ دس کروڑ آدمی پاگل ہو گیا ہے مگر یہ کبھی خیال نہیں کریں گے کہ ہم نے سورج کو نہیں دیکھا اس لئے کہ ہم سورج کو ان طریقوں سے دیکھ چکے ہیں کہ جن طریقوں سے دیکھنے کے بعد شک پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔خیال اور واقع میں یہ فرق ہوتا ہے کہ خیال میں عام طور پر صرف ایک حِسّ شامل ہوتی ہے اور علم میں کئی حسیں شامل ہوتی ہیں۔مثلاً جب کوئی شخص یہ خیال کرتا ہے کہ فلاں جگہ ایک شخص کھڑا ہے لیکن وہ فی الواقع کھڑا نہیں تو اگر وہ اس شخص کو پکڑنے کے لئے ہاتھ مارے گا تو اس پر ظاہر ہو جائے گا کہ اس کی غلطی تھی کیونکہ اس کے ہاتھ کو کچھ محسوس نہ ہو گا۔مگر جب وہاں فی الواقع کوئی شخص کھڑ اہو گا تو قوت لامسہ بینائی کی طاقت کی تائید کرے گی اور اس کو ہاتھ مارنے سے کوئی ٹھوس چیز محسوس بھی ہو گی۔گو کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ واہمہ کئی حسوں پر بھی قبضہ کر لیتا ہے مگر یہ حالت جنون کی ہوتی ہے جس کا نقص خود ہی ظاہر ہو جاتا ہے۔مگر اس دھوکے کی اصلاح کا بھی ایک راستہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر ایک شخص کو وہم ہو تو وہ اپنے وہم کے ماتحت خواہ خود کچھ بھی دیکھے مگر وہ دوسروں کو وہ چیز نہیں دکھا سکتا لیکن جب حقیقت ہوتی ہے تو وہ دوسروں کو بھی اس کا نشان دکھا سکتاہے پس جب میں کہتا ہوں کہ اسلام یعنی احمدیت خدا تعالیٰ سے انسان کو ملا دیتی ہےتو اس سے مراد میری قوت واہمہ کا عمل نہیں کہ اس کے ذریعہ سے تو آج بھی ہر ایک مذہب کے پیرو خدا سے مل رہے ہیں بلکہ میری مراد ایسی ہی یقینی ملاقات سے ہے جیسی کہ یقینی چیزیں ہوا کرتی ہیں یعنی کئی حواس اس کی تصدیق کرتے ہیں اور اس کے اثر لوگوں کو بھی دکھائے جا سکتے ہیں۔مگر یہ بات ضرور ہے کہ رؤیت عرفان کی ہوتی ہے نہ کہ جسمانی آنکھ کی۔اس امر کے ثبوت میں کہ اسلام سوال زیر بحث کا جواب اثبات میں دیتا ہے اور خدا تعالیٰ سے ملا دینے کا دعویٰ کرتا ہے مفصلہ ذیل آیات پیش کی جا سکتی ہیں۔قرآن کریم کے شروع میں اللہ