انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 157

۱۵۷ عبادت پر اعتراض درحقیقت محبت کی کمی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔گو مذکورہ بالا وجہ عبادات کی حقیقت کے سمجھانے کے لئے کافی تھی مگر اسلام نے اس سے بڑھ کر حکمتیں عبادت میں مدنظر رکھی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ ظاہری اعمال کا اثر باطن پر پڑتا ہے اور باطن کا ظاہر پر۔چنانچہ فرماتا ہے وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ (الحج:33) جو شخص ان مقامات کا ادب کرتا ہے جہاں اللہ تعالیٰ کے جلال کا اظہار ہوا تھا تو ایسا ہونا ہی چاہئے کیونکہ دل کی خشیت کا ظاہر پر اثر ہوتا ہے۔اس جگہ دلی پاکیزگی کے ظاہر پر طبعی طور پر اثر پیدا کر دینے کا ذکر ہے۔دوسری جگہ ظاہر ے باطن پر اثر ہونے کا یوں ذکر فرماتا ہے كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (المطففين:15) خبردار ہو جاؤ کہ ان لوگوں کے دلوں میں بوجہ ان کے ظاہری اعمال کے نقص پیدا ہو گیا ہے کہ پہلے یہ اپنے فوائد کے لئے ظاہری حق کے خلاف کرتے رہے آخر نتیجہ یہ نکلا کہ دل سے بھی حق کی محبت دور ہو گئی۔علم سائیکالوجی کے ذریعہ سے مذکورہ بالا حقیقت آج کل بالکل یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہے۔میں نے ایک امریکن سائیکالوجسٹ کی کتاب میں پڑھا ہے کہ ایک امریکن کالج کا پرنسپل جو پہلے نہایت لائق سمجھا جاتا تھا پرنسپل ہو کر نہایت ناقابل ثابت ہوا آخر اسے ایک دوست نے مشورہ دیا کہ اس کا منہ کھلا رہتا ہے اگر وہ منہ بند کرنے کی عادت ڈالے تو اس سے اس کے اخلاق پر بھی اثر پڑے گا اور طبیعت میں انتظام کا مادہ زیادہ ہو جائے گا چنانچہ اس نے ایسا ہی کرنا شروع کیا اور آخر اس کی بے استقلالی جاتی رہی اور وہ نہایت کامیاب پرنسپل ہو گیا۔ہم روزہ مرہ کے معاملات میں بھی دیکھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص غصہ کی شک بنائے تو تھوڑی دیر میں اس کے دل میں غصہ کے خیالات جوش میں آ نے لگتے ہیں۔اگر غصہ کی حالت میں کسی کو گدگدی کر کے یا اور کسی طرح ہنسا دیا جائے تو دیکھا جاتا ہے کہ اس کے دل کا غصہ بھی جاتا رہتا ہے۔رونے کی شکل بنانے سے دل میں غم کے جذبات اور ہنسی کی شکل سے فرحت کے جذبات پیدا ہو جاتے ہیں۔اسی حکمت کو مدنظر رکھ کر شریعت اسلام نے نماز وغیرہ ظاہری عبادات مقرر کی ہیں کہ جب انسان ظاہر میں خشوع اور خضوع کی حالت اختیار کرتا ہے تو آہستہ آہستہ اس کے دل میں ایک محبت کا چشمہ پھوٹ پڑتا ہے اور آخر وہ اس طرح خدا تعالیٰ کی طرف کھنچا جاتا ہے جس طرح کہ مقناطیس کی کشش سے لوہا کھینچا جاتا ہے۔ایک حکمت ظاہری عبادت میں یہ بھی ہے کہ اس سے قومی روح پیدا ہوتی ہے بچے یہ سبق