انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 156

۱۵۶ قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کے ارشادات سے بالکل واضح طور سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کا کمال تین چیزوں یعنی دل اور زبان اور جوارح کے ایک ہو جانے سے پیدا ہوتا ہے جس شخص کا دل سچائی کو قبول نہیں کرتا اور زبان اور جوارح ایمان کا اظہار کرتے ہیں وہ بھی منافق ہے اور جس کا دل ایمان پر قائم ہے لیکن زبان اور جوارح مخالف ہیں وہ بھی جھوٹا ہے سچا وہی ہے جس کا دل بھی ایمان پر قائم ہو اور زبان اور جوارح بھی اس کے ساتھ شامل ہوں۔ہم دیکھتے ہیں کہ جب کسی نسان کو کسی شخص سے پیار ہو تو اس کے سامنے آنے یا اس کا ذکر آ جانے سے اس کے چہرے پر فوراً ایک خاص قسم کا اثر محسوس ہوتا ہے اور ایک اجنبی شخص بھی جان لیتا ہے کہ اس کے دل میں اس دوسرے کی نسبت محبت ہے۔ماں باپ اپنے بچوں کو پیار کرتے ہیں تو کیوں؟ کیا ان کے دل کی محبت کافی نہیں ہوتی؟ وہ اپنے بچہ کو کس لئے چومتے ہیں کس لئے اپنی گود میں اٹھاتے ہیں؟ لوگ اپنے دوستوں سے مصافحہ کیوں کرتے ہیں؟ یورپ کے لوگ جب بادشاہوں کے سامنے حاضر ہوتے ہیں تو سر ننگا کر دیتے ہیں یا ان کے سامنے گھٹنا ٹیکتے ہیں۔ایسا کیوں جاتا ہے؟ کیا ان مواقع پر دل کی محبت اور دل کا اخلاص کافی نہیں ہوتا؟ اگر کہا جائے کہ انسان چونکہ دلی حالت کو نہیں جانتا اس لئے اس کا دل کا حال بتانے کے لئے ظاہر میں بھی بعض نشانات ایسے قرار دئیے گئے ہیں جن سے کہ دل کی محبت کا اظہار کر دیا جاتا ہے اور ان کے ذریعہ سے دوسرے کو معلوم ہوتا ہے کہ فلاں شخص مجھ سے محبت رکھتا ہے۔مگر یہ جواب درست نہیں کیونکہ ہر ایک شخص جانتا ہے کہ جب وہ اپنے بچہ کو پیار کرتا ہے یا اپنے کسی عزیز یا دوست کی طرف مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھاتا ہے تو اس وقت اس کا یہ فعل اس خیال کے ماتحت نہیں ہوتا کہ وہ اس پر اپنی محبت کا اظہار کرے۔کیا نوزائیدہ بچے کو جو باکل سمجھ نہیں رکھتا ماں پیار نہیں کرتی؟ یا سوئے ہوئے بچہ کو والدین بسا اوقات پیار نہیں کرتے؟ پس معلوم ہوا کہ محبت کو جسمانی علامات کے ذریعہ سے ظاہر کرنا ایک طبعی تقاضا ہے نہ کہ دل کی حالت جتانے کا ایک ذریعہ۔پس جو شخص خدا تعالیٰ سے محبت رکھتا ہے اور فی الواقع اس کی طرف اس کے دل میں کشش ہے کس طرح ممکن ہے کہ اعمال اور زبان کے ذریعہ سے اس کی محبت ظاہر ہونے کی کوشش نہ کرے اور یہی غرض ہے کہ جو مذہب نے عبادات میں رکھی ہے۔عبادت اس قلبی تعلق کا ایک ظاہری نشان ہے ا ور جو شخص سچے طور سے خدا تعالیٰ سے محبت رکھتا ہے وہ باوجود دوسری چیزوں کی محبت کو جسمانی علامات کے ذریعہ سے ظاہر کرنے کے عبادت کے متعلق کس طرح اعتراض کر سکتا ہے؟