انوارالعلوم (جلد 8) — Page 154
۱۵۴ مختلف مذاہب نے مختلف طور پر دیا ہے اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس سوال کے متعلق مختلف مذاہب کا پہلے سوالوں کی نسبت زیادہ اختلاف ہے۔اسلام اس سوال کا یہ جواب دیتا ہے اور یہی طبعی جواب ہے کہ انسان کو چاہئے کہ اس غرض کو پورا کرے جس غرض کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی معیت تلاش کرے اور اس کا کامل عبد بنے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللَّهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ فَتَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ () هُوَ الْحَيُّ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ () قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَمَّا جَاءَنِيَ الْبَيِّنَاتُ مِنْ رَبِّي وَأُمِرْتُ أَنْ أُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ (غافر:65-67) یعنی اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو ایسا بنایا ہے کہ اس میں تمہاری ضرورتوں کے سب سامان مہیا ہیں اور آسمان کو تمہارے لئے موجب حفاظت بنایا ہے اور تم کو شکلیں دی ہیں اور ایسی شکلیں دی ہیں جو تمہارے لئے موجب حفاظت بنایا ہے اور تم کو شکلیں دی ہیں اور ایسی شکلیں دی ہیں جو تمہارے کام کے مطابق ہیں اور پاکیزہ رزق تم کو عطا کیا ہے یہ تمہارا خدا ہے پس کیا ہی برکت والا ہے یہ خدا جو صرف تمہارا ہی رب نہیں بلکہ سب مخلوقات کا رب ہے وہ زندہ ہے اور دوسروں کو زندگی بخشتا ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔پس اس کو پکارو اس طرح کہ سوائے اس کے اور کسی کی عبادت نہ کرو۔سب تعریف اس خدا کے لئے ہے جو سب مخلوق کا رب ہے۔تو کہہ دے مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو بعد اس کے کہ میرے پاس میرے رب کے کھلے کھلے نشان آ چکے ہیں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب جہانوں کے رب کا پورا فرمانبردار ہو جاؤں۔ان آیا ت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قلبی تعلق کے علاوہ جس کا پہلے ذکر آ چکا ہے اپنے بندے سے ظاہری اعمال میں بھی اپنے احکام کی فرمانبرداری چاہتا ہے۔یہ احکام جیسا کہ قرآن کرم سے معلوم ہوتا ہے کئی قسم کے ہیں مگر اس جگہ میں صرف ان احکام کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو عبادت سے تعلق رکھتے ہیں یعنی جن میں اللہ تعالیٰ کے حضور میں اظہار عبودیت کو مدنظر رکھا گیا ہے۔بنی نوع انسان کے ساتھ ان کا براہ راست تعلق نہیں۔یہ اعمال اسلام نے پانچ قسم کے مقرر کئے ہیں۔(1) نماز (2) ذکر (3) روزہ (4) حج (5) قربانی۔اور ان پانچوں قسم کے احکام میں تمام مذاہب میں قریباً اشتراک پایا جاتا ہے یعنی ان میں ان پانچوں قسم کی عبادتوں کا وجود پایا جاتا ہے گو طریق عبادت مختلف ہیں۔جدید تحقیق جو پرانے