انوارالعلوم (جلد 8) — Page 151
۱۵۱ باعث ہے اور ہماری آئندہ زندگی بھی اسی کے فضل سے وابستہ ہے۔اس سے بڑھ کر نہ ہمارے والدین ہو سکتے ہیں نہ ہماری اولاد، نہ ہمارے بہائی، نہ ہماری بیویاں، نہ ہمارے خاوند، نہ ہمارے دوست، نہ ہمارے اہل ملک، نہ ہماری حکومت، نہ ہمارا مل، نہ ہماری جائداد، نہ ہمارا عہدہ، نہ ہماری عزت، نہ خود ہماری جان کیونکہ یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کے عطیوں کا ایک جزو ہیں اور وہ اس کُل کا معطی ہے۔درحقیقت ان صفات کو بیان کرنے کے بعد جو اوپر بیان ہو چکی ہیں وہی مذہب سچا ہو سکتا ہے جو انسان سے یہ مطالبہ کرے کہ وہ خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کے ادب کو سب چیزوں کی محبت اور سب حاکموں کے ادب پر فوقیت دے اور خدا کی رضا کے لئے سب چیزوں کو قربان کرنا پڑے تو کر دے مگر خد اکی رضا کو کسی اور چیز پر قربان نہ کرے۔وہ اس امر کا مطالبہ کرے کہ خدا تعالیٰ کی محبت انسان کے دل میں سب چیزوں سے زیادہ ہونی چاہئے اور اس کی یاد سب پیاروں کی یاد سے بڑھ کر ہونی چاہئے۔اس کے وجود کو ایک دور کے ملک کے پہاڑ یا دریا کی طرح عالم موجودات کا ایک فرد نہیں سمجھ چھوڑنا چاہئے بلکہ اس کو ہر ایک زندگی کا سرچشمہ اور ایک امید کا مرکز اور ہر ایک نظر کا مطمح بنانا چاہئے۔اسلام یہی تعلیم دیتا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ(التوبة:24) اے ہمارے رسول! کہہ دے اگر تمہارے ماں باپ اور تمہاری اولاد اور تمہارے بہائی بہنیں اور تمہاری بیویاں یا تمہارے خاوند یا تمہاری قوم یا تمہارے مال جن کو تم محنتوں سے کماتے ہو۔یا تمہاری تجارتیں جن میں نقصان ہو جانے کا تمہیں خطرہ ہوتا ہے یا تمہارے گھر جن کو تم پسند کرتے ہو اللہ اور اس کے رسول اور اللہ کی رضا کے لئے کوشش کرنے کی نسبت تمہیں زیادہ پیارے ہیں تو تم مومن نہیں ہو۔تم انتظار کرو اس وقت کا جب خدا تعالیٰ تمہارے متعلق کوئی فیصلہ کرے اور اللہ عہد شکن لوگوں کو کامیاب نہیں کرتا۔ایک مسلمان ہرگز مسلمان نہیں کہلا سکتا جب تک اس کا اللہ تعالیٰ سے ایسا ہی تعلق نہ ہو جو اس آیت میں بیان ہوا ہے۔اسے خدا کی رضا کے لئے ہر ایک دیگر چیز اور ہر ایک دوسرے جذبہ کو قربان کر دینا چاہئے۔اس کی محبت ہر ایک دوسری چیز پر اسے مقدم ہونی چاہئے۔ایک دوسری جگہ پر اللہ تعالیٰ محبت الٰہی کی علامت کا اس طرح ذکر فرماتا ہے الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا