انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 127

۱۲۷ لاتے ہیں اور ایک وہ ہیں جو اس شریعت کو قائم کرنے آتے ہیں اور جو نقائص مرور زمانہ سے مذہب میں پیدا ہو گئے تھے ان کو دور کرتے ہیں تمام مذہبی سلسلوں کا اس امر پر اتفاق ہے اور موسوی سلسلہ کے انبیاء اس فرق کی ایک کھلی مثال ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام شریعت لانے والے نبی تھی آپ کے زمانے میں ہارون اور آپ کے بعد یوشع اور ان کے بعد آنے والی نبی بشمولیت حضرت مسیح علیہم السلام سب کے سب موسیٰ کی شریعت کو قائم کرنے کے لئے آئے تھے۔حضرت مسیح خود فرماتے ہیں "یہ خیال مت کرو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتاب منسوخ کرنے کو آیا۔میں منسوخ کرنے کو نہیں بلکہ پوری کرنے کو آیا ہوں۔" اس امر کے متعلق کہ موسیٰ کی شریعت آپ کے زمانہ تک اور آپ کے شاگردوں کے لئے بھی جاری تھی اس نصیحت سے جو آپ نے اپنے شاگردوں اور دوسروں کو کی ظاہر ہے یعنی "فقیہہ اور فریسی موسیٰ کی گدی پر بیٹھے ہیں اس لئے جو کچھ وہ تمہیں ماننے کو کہیں مانو اور عمل میں لاؤ لیکن ان کے سے کام نہ کرو کیونکہ وہ کہتے ہیں پر کرتے نہیں۔" بے شک مسیح کی بعض تعلیموں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ توریت سے مختلف ہیں لیکن اگر ہم توریت کو غور سے دیکھیں تو ان کا بیج ہمیں توریت میں نظر آتا ہے بلکہ خود حضرت مسیح نے ان تعلیموں کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ تعلیمیں بھی نئی نہیں ہیں بلکہ وہی ہیں جو پہلے توریت میں بیان ہو چکی ہیں۔چنانچہ آپ اس پہاڑی وعظ کے بعد جس کی نصائح کو توریت سے جدا سمجھا جاتا ہے فرماتے ہیں "توریت اور نبیوں کا خلاصہ یہی ہے۔" غرض انبیاء دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو نئی شریعت لاتے ہیں جیسے کہ موسیٰ علیہ السلام اور ایک وہ جو پرانی شریعت کو قائم کرتے ہیں بعد اس کے کہ لوگوں کے خیالات کی ملونی سے وہ حقیقت سے دور ہو گئی جیسے کہ ایلیاہ، یسعیاہ، حزقیل، دانیال اور مسیح علیہم السلام۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ بھی مؤخر الذکر قسم کے نبیوں کی طرح ایک نبی ہونے کا تھا اور خصوصاً آپ اس امر کے مدعی تھے کہ جس طرح موسوی سلسلہ کے آخری خلیفہ حضرت مسیح ناصری تھے اسی طرح اسلام کے آخری خلیفہ آپ تھے اور اس وجہ سے احمدیت کو دوسرے مسلمان فرقوں کے مقابلہ پر بالکل اسی مقام پر سمجھنا چاہئے کہ جس پر یہودیت کے مقابلہ میں مسیحیت ہے۔ہم لوگ یہ یقین کرتے ہیں کہ حضر ت محمد ﷺ حضرت موسیٰ کی اس پیشگوئی کے