انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 92

۹۲ ہندوؤں کا معاملہ آجائے اور ایک اس کا بھائی ہو دو سراغیرتووه طبعا ًاپنے بھائی کی حمایت کرتا ہے۔پس ہندو گو غیر ملکیوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کا ساتھ دیں مگر ملک کی دولت سے فائدہ اٹھاتے وقت بالطبع ہر ایک قوم اپنے عزیزوں کا لحاظ کرے گی اور قلیل التعداد اور تعلیم اور رسوخ میں پیچھے رہنے والی قوم لازما ًسخت نقصان اٹھائے گی اور صلح کا زمانہ ہی جبکہ قلیل التعدار جماعت اپنے حقوق کی حفاظت سے غافل ہوگی شقاق اور نفاق کے بیج کو نشوونما دینے والا ثابت ہو گا۔اور یہ بھی نہ سوچا گیا کہ جملہ حقوق کی حد بندی نہیں کی گئی تو جو لوگ سمجھدار ہیں اور حقیقت کو سمجھتے ہیں وہ ضرور ایک دوسرے پر بد گمان رہیں گے اور بِلا تصفیہ حقوق کے ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کر سکیں گے جس کا آخری نتیجہ فسادا ور عناد ہو گا۔٣۔تیسری یہ غلطی ہوئی کہ خیال کر لیا گیا کہ ہمارے سوا ہندوستان میں کوئی اور نہیں بستا اور ان لوگوں کی طاقت کا بالکل اندازہ نہیں کیا گیا جن سے مقابلہ تھا حالانکہ یہ طبعی بات ہے کہ جن لوگوں کے خلاف کوئی سمجھوتہ کیا جائے وہ ضرور اس جمود کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ سمجھوتہ جو ہندو مسلمانوں کے درمیان میں ہوا تھا ایک طرف تو موجودہ گورنمنٹ کے خلاف تھا دوسری طرف دوسری اقوام ہند پر اس کا بد اثر پڑتا تھا اور خود ہندوؤں اور مسلمانوں میں سے بعض فریقوں کے خلاف تھابعض لوگوں نے اس کی مخالفت کی اور آخر وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔۴۔مسلمانوں کے جن نمائندوں نے ہندو مسلم اتحاد کے مسودہ کافیصلہ کیا انہوں نے انجام پر ایسے گہرے طور پر غور نہیں کیا جیسے کہ ان کو غور کرنا چاہئے تھا۔ان چار نقائص کا نتیجہ یہ ہوا کہ صلح قائم نہ رہ سکی اور ملک میں اور بھی فساد پھوٹ پڑا جیسا کہ وہ لوگ جانتے ہیں جن کو میرے ان لیکچروں کے سننے کا موقع ملا ہے جو میں نے گذشتہ پانچ سال میں ان معاملات کے متعلق دیئے ہیں یا میری تحریرات کے پڑھنے کا موقع ملا ہے میں ان امور کی طرف شروع سے توجہ دلاتا رہا ہوں اور اس نتیجہ ہے ڈراتا رہا ہوں جو اب نکلا ہے۔میرے نزدیک ہندو مسلم اتحاد کے لئے ضروری ہے کہ اس کی بنیا د مندرجہ ذیل اصول پر رکھی جائے۔۱ - اس امر کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے کہ اختلاف کا اصل باعث ان کمیٹیوں سے پیدا نہیں ہوتا جن میں کہ مختلف قوموں کے نمائندے جمع ہو کر فیصلے کرتے ہیں بلکہ اس کا اصل باعث ان کروڑوں آدمیوں میں پیدا ہوتا ہے جن میں سے بہت سے لوگ اس امر کو بھی نہیں سمجھ سکتے کہ اتحاد کا کیا فائدہ ہے ؟ اور اس کا خیال رکھنے کی ان کو کیا ضرورت ہے ؟ وہ اس امر کی قابلیت نہیں