انوارالعلوم (جلد 8) — Page 55
۵۵ لیکن وہ لوگ جن کے دل میں ایمان نہیں ہوتاوہ ہنسی کی باتیں کرتے ہیں۔اب دیکھو کونسی باتیں کس فریق میں پائی جاتی ہیں۔آیا مسیح موعود بھی اسی طرح تمسخراور ہنسی کرتے تھے جس طرح آپ کے مخالفت کرتے ہیں؟ کیا آپ بھی اس بات میں مخالفین کی طرف منسوب کرتے تھے جو وہ نہیں مانتے تھے۔کبھی حضرت صاحب نے عیسائیوں یا آریوں یا غیرا حمدیوں کے لئے ایسا کیا اور ان کی طرف وہ باتیں منسوب کیں جو وہ نہیں مانتے تھے۔مگر ہمارے مقابلہ میں جتنی باتیں پیش کی جاتی ہیں وہ وہی ہیں جن کا ہم انکار کرتے ہیں اور پھر ان پر ہنسی اڑائی جاتی ہے۔بے شک ہر مخالف اعتراض کر سکتا ہے اگر ہم حضرت صاحب کو خدا کہتے ہوں۔اگر ہم تو انہیں خدا کا بندہ مانتے ہیں اور وہ بھی محمد ﷺ کا غلام۔پھر اعتراض کیسا؟ اسی طرح اگر ہم انہیں خدا کا بیٹا کہتے تو اعتراض ہو سکتا تھا مگر جب ہم کہتے ہی نہیں اور نہ یہ مانتے ہیں تو کسی کا کیا حق ہے کہ ہم پر اعتراض کرے۔اسی طرح کہا گیا ہے حضرت صاحب لکھتے ہیں۔مجھے حیض آیا۔اگر اس کا یہی منشاء ہے توبے شک اس پر ہنسی اڑائی جاسکتی ہے لیکن اگر خود حضرت صاحب نے اس کی تشریح کردی ہے تواس تشریح کو چھوڑ کر اور رنگ میں پیش کرنا ظاہر کرتا ہے کہ ان لوگوں سے شرافت مٹ گئی ہے اور انہیں خوفِ خدا نہیں رہا۔غرض میں نے بتایا ہے کہ استہزاء ہو نا سارے نبیوں کی سنت چلی آرہی ہے اس لئے دوستوں کو گھبرانا نہیں چاہئے جو کچھ پلوں سے گذرا تم نہیں بچ سکتے کہ تم سے نہ گذرے۔پہلے نبیوں کا بروز اور انکے مخالفین کے بروز ٍیاد رکھو کہ جن حالات میں سے پہلے نبیوں کی قو میں گذری ہیں ان ہی حالتوں میں سے پچھلے نبیوں کی گذریں گی۔پس اے دوستو! اور عزیزو! جو جماعت احمدیہ میں سے ہو گھبراؤ نہیں۔کیونکہ یہ خدا کی سنت پوری ہو رہی ہے اور خدا بتا رہا ہے کہ جس طرح آج مثیل محمد ﷺآیا ہے مثیل ا بو جہل بھی آئے ہیں اوردکھاتا ہے کہ اس وقت جس طرح حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ آئے۔اسی طرح اس وقت فریسی اور فقیہی بھی آئے۔پس اے عزیزو! جس طرح حضرت نوح اور حضرت ابراہیم آۓ اسی طرح شدّاد اور نمرود بھی آگئے تم کس طرح امید کر سکتے ہو کہ خدا کی طرف سے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ اور حضرت نوح ،حضرت ابراہیم تو آئیں مگر شد اداور نمرود نہ ہوں۔یہ ہو نہیں سکتا کہ محمد ﷺ دوبارہ آئیں مگرا بو جہل عتبہ شیبہ نہ آئیں۔اگر ہدایت سے روکنے کے لئے شیطان موجود ہے تو کیوں ہدایت سے روکنے