انوارالعلوم (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 642 of 714

انوارالعلوم (جلد 8) — Page 642

۶۴۲ محلوں میں بھی اس کے آثار پائے جاتے ہیں۔موت ہمیشہ آتی ہے لوگ مرتے ہیں بعض دفعہ اچانک موتیں بھی ہوتی ہیں لیکن طاعون کی موت کے ساتھ چو نکہ ایسی بات لگی ہوئی ہے کہ یہ عذاب کی خبر کے طور پر آئی ہے اس لئے گو بعض احمدیوں کا فوت ہو جانا حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی کے منافی نہیں مگر چونکہ شماتتِ اعداء کا باعث ہو سکتا ہے اس لئے طاعون کے خیال سے ہر ایک احمدی کے دل پر بوجھ ہوتا ہے اور قدر تاً گھبراہٹ ہوتی ہے کہ وہ شامت اعمال یا کسی اور حكمت الہٰی سے دوسروں کی شماتت کا نشانہ نہ بنے۔میں اس اجتماع سے جو اس خبر کے سننے کے بعد جلد سے جلد مجھے میسّر آیا ہے فائدہ اٹھاتے ہوئے جماعت کو تاکید کرتا ہوں کے علاوہ اس کے کہ بہت دعاؤں سے کام لیں اور میں بھی دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالی ہماری جماعت کے مردوں، عورتوں، چھوٹوں، بڑوں سب کو بچا کر اپنے فضل کے نیچے رکھے ظاہری صفائی کی طرف بھی خیال رکھیں کیونکہ وبائی امراض کا غلاظت سے بہت بڑا تعلق ہے خصوصاً طاعون کا۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ہر محلّہ کے لوگ فورا ًخواہ اسی وقت، خواہ صبح کو اپنے اپنے محلّہ کی صفائی کا انتظام کریں۔مجھے افسوس ہے کہ قادیان میں آئے ہوئے تین دن گزر گئے اور کسی نے خبرنہ دی۔اگر پہلے خبر ملتی تو اسی وقت اس طرف توجہ کی جاتی۔اب جس قدر جلدی ہو سکے اس طرف توجہ کی جائے۔تمام گھروں میں ہدایات دے دی جائیں کہ گھروں میں یا گھروں کے پاس کوڑا کرکٹ نہ پھینکا جائے۔ایک دوائی منگوائی گئی ہے جو گھروں میں تقسیم کی جائے گی۔اس کے متعلق ڈاکٹر صاحبان جو ہدایات دیں ان پر لفظاً عمل کیا جائے۔ایسے ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نین ،کا فور اور جدوار کی گولیاں کھاتے تھے ان کا استعمال کیا جائے۔اپنے جسم کو زخم لگنے یا سخت تھکان سے بچایا جائے۔سردی سے حفاظت کی جائے پاؤں کے ننگے ہونے سے بہت احتیاط کی جائے۔پاؤں کو گرم رکھا جائے۔ایسی جگہوں یا ایسے گھروں میں جہاں کسی کو بخار وغیرہ ہو چُھپایانہ جائے۔اور ڈاکٹر جو ہدایات دیں ان پر عمل کیا جائے۔بالآخر پھر میں یہ کہتا ہوں کہ دعائیں کرو خداتعالی سب کو اس سے محفوظ رکھے۔یہ دعائیں اپنی جماعت کے لئے ہی نہ ہوں بلکہ دوسروں کے لئے بھی ہوں۔خدا تعالی ان پر بھی رحم کرے۔(الفضل ا٣-مارچ۱۹۲۵ء)